الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 19 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 19

۱۹ الحُجَّةُ البَالِغَةُ یہ اعتراض کہ خدا کا مسیح علیہ السلام کو یہ کہنا کہ كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاءِ يُلَ عَنْكَ (سورۃ مائدہ رکوع ۱۵) یعنی ہم نے تجھے بنی اسرائیل کے شر سے محفوظ رکھا۔‘ ظاہر کرتا ہے کہ یہود مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکانے ہی پر قادر نہیں ہو سکے ایک نہایت بودا اعتراض ہے جو محض قلتِ تدبر سے پیدا ہوا ہے۔كَفَفْتُ بَنِي إِسْرَاء يُلَ عنك کے صرف یہ معنی ہیں کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔یعنی یہود نے جو یہ ارادہ کیا تھا کہ اسے صلیب کے ذریعے مار ڈالیں اس میں ان کو نا مراد کیا۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہود کوئی چھوٹی موٹی تکلیف بھی مسیح علیہ السلام کونہیں پہنچا سکے ایک اہلہانہ بات ہے جس کی نہ تو الفاظ اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی تاریخ سے اس کی کوئی شہادت ملتی ہے۔علاوہ اس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خدا کا وعدہ تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس ( سورۃ مائدہ رکوع ۱۰) یعنی اللہ تجھے لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔لیکن باوجود اس کے آپ کو کفار کے ہاتھوں اتنی تکالیف پہنچیں کہ بقول آپ کے اس قدر تکالیف کسی اور نبی کو نہیں پہنچیں۔آپ کے دو دانت ایک لڑائی کے موقع پر ٹوٹ گئے اور طائف اور اُحد کے موقع پر زخم بھی آئے اور کئی اور طریق سے بھی تکلیف دی گئی تو کیا خدا کا وعدہ غلط نکلا؟ ہرگز نہیں۔لہذا گففت بنی اسراءیل عَنكَ کے صرف یہی معنی ہیں کہ یہود کی شرارتوں سے مسیح علیہ السلام کو محفوظ رکھا اور یہ جو انہوں نے ارادہ کیا تھا کہ اسے صلیب پر مار کر نعوذ باللہ ایک ملعون موت مرنے والا ثابت کریں اس ارادہ میں ان کو نامراد کیا کیونکہ تورات