الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 14

۱۴ الحُجَّةُ البالغة اُٹھا لیا وھوالمراد بل رفعہ اللہ الیہ والی آیت جس کی بحث او پر گزری ہے اسی آیت کے جواب میں واقع ہوئی ہے۔اس میں اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ اے عیسی میں تجھے وفات دے کر اپنی طرف اٹھاؤں گا اور آیت رفعہ اللہ الیہ میں اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کے پورا ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم نے حسب وعدہ مسیح کو اپنی طرف اُٹھالیا۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جو ہمارے معنوں کی تائید کرتی ہیں مثلاً ملاحظہ ہو قرآنی آیت: إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (سوره فاطر رکوع ۲) یعنی اللہ ہی کی طرف طیب کلمات چڑھتے ہیں اور نیک اعمال ہی انسان کے رفع کا باعث ہوتے ہیں“۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر ایک نیک انسان کو اس کے نیک اعمال کی وجہ سے خدا کی طرف رفع حاصل ہوتا ہے تو اب کیا سارے نیک انسان آسمان پر زندہ اُٹھائے جاتے ہیں؟ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے معنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قول سے بھی ظاہر ہیں کہ : إنِّي ذَاهِب إلى ربي (سوره الصافات رکوع ۳) یعنی میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں۔پھر اس قرآنی آیت سے تو سب مسلمان واقف ہیں کہ : انَا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (سوره بقره رکوع ۱۹)