الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 13
۱۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ کے ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ تمام مقر بین الہی زندہ آسمان کی طرف اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ خدا فرماتا ہے :۔يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً یعنی اے اطمینان یافتہ نفس تو اپنے خدا کی طرف لوٹ آ۔“ چوتھے یہ کہ خود قرآن کریم میں رفع کے معنی رفع روحانی کے آئے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بلعم باعور کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةً أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ یعنی اگر ہم چاہتے تو ان نشانوں کے ذریعہ اس کا رفع کرتے لیکن وہ تو خود زمین کی طرف جھک گیا۔“ ایک اور آیت ہے جو رفع کے معنوں کو بالکل واضح کر دیتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (سوره آل عمران رکوع ۶) یعنی خدا فرماتا ہے کہ اے عیسی میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا۔“ اس آیت میں ترتیب کے لحاظ سے رفع کو وفات کے بعد رکھا گیا ہے جس سے رفع کے معنی صاف طور پر گھل جاتے ہیں۔موت کے بعد نیک لوگوں کی ارواح کا خدا کی طرف رفع ہوا کرتا ہے اور ان کو جنت کی طرف اٹھا کر بلند مقام میں جگہ دی جاتی ہے۔لیکن بد ارواح کا کسی بلند مقام کی طرف رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ جہنم کی طرف گرادی جاتی ہیں۔سو اسی مفہوم کے مطابق خدا نے مسیح ناصری کو گرنے سے بچا کر اپنی طرف