الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 9
الحُجَّةُ البالغة میں ہوتا ہے پھر بخاری جو حدیث کی کتابوں میں مسلمہ طور پر صحت کے لحاظ سے اول نمبر پر ہے اس میں لکھا ہے کہ :- ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ( بخاری کتاب التوحید) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج میں یہ سب نظارے دیکھنے کے بعد بیدار ہو گئے اور اس وقت آپ مسجد حرام میں تھے۔“ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ معراج ایک لطیف رؤیا تھا جو بصورت کشف دکھایا گیا نہ کہ بصورت جسم عنصری وھوالمراد۔رفع الی اللہ کی صحیح تشریح غرض قرآن شریف اس بات کا ہرگز متحمل نہیں ہے کہ کوئی بشر جسم عصری کے ساتھ آسمان پر زندہ چلا جاوے بلکہ صاف الفاظ میں اس کے خلاف اعلان فرماتا ہے۔مگر حضرت مرزا صاحب کے مخالفین قرآن شریف کی ایک آیت سے استدلال کیا کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھالیا تھا اور وہ آیت یہ ہے:۔وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ۔۔۔وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنا بَلْ ( سورة النساء رکوع ۲۲) رفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ یعنی یہود نے نہ تو مسیح کو قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر لٹکا کر مارا بلکہ اصل میں واقعہ یہ ہوا کہ مسیح علیہ السلام ان کی نظروں میں مشابه بالمقتول والمصلوب بنادیا گیا۔۔۔مگر وہ ہرگز ہرگز مسیح “ کے مارنے پر قادر نہیں ہوئے بلکہ مسیح کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اُٹھا لیا۔“