الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 6 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 6

اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ اے رسول تو ان کو جواب دے کہ :- سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرَ ارَّسُوْلًا الحجة البالغة (سورۃ بنی اسرائیل رکوع ۱۰) دو یعنی پاک ہے میرا رب میں تو صرف ایک انسان رسول ہوں۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ ایک بشر کا زندہ آسمان پر جانا خدا کی سنت اور وعدہ کے خلاف ہے اور خدا اس بات سے پاک ہے کہ خود اپنے فیصلوں کو توڑے۔غور کا مقام ہے کہ کفارِ عرب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان انسان سے آسمان پر جانے کا معجزہ طلب کرتے ہیں اور اس قسم کا معجزہ دیکھنے پر ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صاف جواب دیتے ہیں کہ میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں اور کوئی بشر آسمان پر زندہ نہیں جاسکتا۔اس آیت کے ہوتے ہوئے ایک عیسائی اگر اس بات کے کہنے کی جرات کرے تو کرے کہ مسیح زندہ آسمان پر چلا گیا مگر ایک مسلمان کہلانے والا انسان جو مسیح کو ایک انسان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درجہ میں بہت چھوٹا انسان یقین کرتا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ حضرت مسیح ناصری اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جا بیٹھے ہوں۔غضب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کفار کو یہ جواب دیتے ہیں کہ میں صرف ایک انسان ہوں اور انسان کا آسمان پر زندہ چلے جانا خلاف سنت و خلاف فیصلہ الہی ہے مگر مسلمان ہیں کہ مسیح کو انسان مانتے ہوئے پھر بھی اُس کو آسمان پر بٹھا رہے ہیں۔کیا اگر واقعی مسیح آسمان پر زندہ بیٹھا ہے تو وہ اس آیت کی رو سے انسان سے بالا