الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 75 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 75

۷۵ الحُجَّةُ البَالِغَةُ مرحومہ میں سے ہوں گے بلکہ مسیح موعود کے لئے خصوصیت کے ساتھ آپ کے سامنے الفاظ امامُكُمْ مِنْكُمْ نکال کر رکھ دیئے گئے اور بالآخر آپ کی کامل تسلی کے لئے ہم نے خاتم النبیین کے ہاتھ کے کھینچے ہوئے دونوں مسیحوں کے الگ الگ فوٹو بھی آپ کے سامنے رکھ دیئے اس سے زیادہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ میں اپنے عقلمند ناظرین پر صریح ظلم کرنے والا ہوں گا اگر میں یہ خیال کروں کہ ان عظیم الشان شہادتوں کے ہوتے ہوئے ان کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی یہ خیال آسکتا ہے کہ مسیح ناصری زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور کسی زمانے میں دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے؟ ہاں اب ان کے دل میں یہ خلجان پیدا ہونا ایک حد تک طبعی امر ہے کہ جب قرآن شریف اور احادیث اور صحابہ کے اقوال اس صفائی سے مسیح پر فاتحہ خوانی کر رہے ہیں تو تمام امت اتنی صدیوں سے مسیح علیہ السلام کو کیوں زندہ مانتی چلی آئی ہے؟ حیات مسیح کے عقیدہ پر امت محمدیہ کا اجماع کبھی نہیں ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ تمام امت کا اس عقیدہ پرا جماع رہا ہے۔سلف صالحین میں سے بہت لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے مسیح ناصری کی وفات کا اقرار کیا ہے۔کیا آپ کو یاد نہیں رہا کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے سب سے پہلا اجماع جو آنحضرت کی وفات کے بعد صحابہ کا ہوا وہ اسی بات پر تھا کہ آنحضرت سے پہلے جتنے نبی ہوئے وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔پھر حضرت ابن عباس نے مُتَوَفِّيكَ کے معنی ممینگ بیان کر کے اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا اور امام بخاری نے اس کو اپنی صحیح میں درج کر کے اس پر اپنی مہر کر دی۔پھر مجمع الجار میں لکھا ہے: