الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 3
الحُجَّةُ البَالِغَةُ تک تو سب مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے مگر اس کے آگے اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مرزا صاحب کے مخالف علماء کا یہ مذہب ہے کہ موعود مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جو واقعہ صلیب کے موقع پر آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے تھے اور اب تک آسمان پر زندہ بجسم عنصری موجود ہیں اور آخری زمانے میں دوبارہ زمین پر نازل ہوں گے۔اس کے مقابل پر حضرت مرزا صاحب اور آپ کی جماعت کی یہ تعلیم ہے کہ حضرت مسیح ناصری فوت ہو چکے ہیں اس لئے آنے والا مسیح کوئی اور شخص ہونا چاہئے جو حضرت مسیح ناصری کا مثیل بن کر آئے گا۔ہر چند کہ حضرت مرزا صاحب کا فرض نہ تھا کہ وہ وفات مسیح ثابت کرتے بلکہ مرزا صاحب کے مخالفین کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن اور احادیث صحیحہ سے حضرت مسیح کی حیات ثابت کریں کیونکہ حیات مسیح کا دعوی ایک ایسا دعویٰ ہے جو عام مشاہدہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے کسی بین دلیل کے بغیر ہرگز مانا نہیں جا سکتا بمقابلہ موت کے دعوی کے جس کے لئے کسی بیرونی دلیل کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ عام فطری قاعدہ کے مطابق ہے۔مگر باوجود اس کے حضرت مرزا صاحب نے اصلاح خلق اللہ کی نیت سے اس کام کو اپنے ذمہ لیا اور پھر اس خیر و خوبی سے اس کو نبابا کہ آج اور تو اور بڑے بڑے غیر احمدی علماء بھی اس مسئلے پر کسی احمدی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سخت گھبراتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو بات کرنے سے صاف انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے ساتھ کیا تعلق ہے۔حالانکہ موٹی عقل رکھنے والا انسان بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے متعلق تحقیقات کے رستے میں وفات وحیات مسیح ناصری کا مسئلہ سب