الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 51
۵۱ الحُجَّةُ البَالِغَةُ قرآن مجید کی تفسیر کا گر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: b هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ أَيْتُ مُّحَكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهتْ ، فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ ( سوره آل عمران رکوع ۱) مولوی نذیر احمد صاحب دہلوی اس آیت کے یوں معنی کرتے ہیں کہ : ”اے پیغمبر وہی ذات پاک ہے جس نے تم پر یہ کتاب اُتاری جس میں بعض آیات پی یعنی صاف اور صریح ہیں کہ وہی اصل کتاب ہیں اور بعض دوسری مبہم آیات ہیں کہ ان کے معنوں میں کئی پہلونکل سکتے ہیں۔تو جن لوگوں کے دلوں میں کبھی ہے وہ تو قرآن کی انہیں مہم آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تا کہ فساد پیدا کریں۔“ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنی آیات کی تفسیر کرنے کا کیسا گر بتایا ہے کہ جس سے سب جھگڑے کی جڑ کٹ جاتی ہے۔فرماتا ہے کہ بعض ایسی آیات ہیں کہ جن کے معنوں میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں مثلاً یہی کہ کوئی ضمیر بیان کی گئی ہو جس کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایک شے کی طرف پھرتی ہوا اور ممکن ہے کہ دوسری کی طرف پھرتی ہو یا اور کسی قسم کا تشابہ واقع ہو جاوے تو اس صورت میں ہمیں خدا ہدایت فرماتا ہے کہ ایسی آیات کے وہی معنی کریں کہ جو قرآن مجید کی محکم آیات کے خلاف نہ ہوں۔اب دیکھو کہ یہ کیسی محکم اور قطبیعۃ الدلالت آیت ہے کہ :- فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ