الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 33 of 98

الحجۃ البالغہ فی وفات الذی ظھر فی ناصرہ — Page 33

۳۳ الحُجَّةُ البَالِغَةُ مسیح ناصری کی وفات پر یہ کیسی صاف اور واضح دلیل ہے مگر افسوس حضرت مرزا صاحب کے مخالفین اس قسم کی صاف اور قطعی دلیل کی طرف بھی توجہ نہیں کرتے اور یہی کہے جاتے ہیں کہ بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ ابائنا۔مگر حل طلب امر یہ ہے کہ اَوَلَوْ كَانَ ابَاعُهُمْ لا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ۔اچھا اب آگے چلئے۔مسیح ناصری کا رفع وفات کے بعد ہوا قرآن مجید فرماتا ہے:۔يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ( سوره آل عمران رکوع ۶) یعنی اے عیسی میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دوں گا اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے پاک کروں گا ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکرین پر غالب رکھوں گا۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح ناصری سے چار وعدے فرمائے ہیں جو ایک خاص ترتیب میں واقع ہوئے ہیں۔یعنی (۱) وفات اور (۲) رفع اور (۳) تطہیر اور (۴) غلبہ۔اب یہ خیال کرنا کہ پچھلے تین وعدے تو پورے ہو چکے ہیں مگر پہلا وعدہ ابھی تک پورا ہونے میں نہیں آیا صریح ہٹ دھرمی ہے۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے الفاظ موتیوں کی طرح اپنی اپنی جگہ پر جڑے گئے ہیں۔کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ قرآن کے الفاظ کو اُلٹ پلٹ دے۔اگر اس طرح ہونے لگے تو امان اُٹھ جاوے۔یہود کو اسی واسطے اللہ تعالیٰ لعنت ملامت کرتا ہے کہ