القصائد الاحمدیہ — Page 85
۸۵ وَ فِي السّلْمِ وَالْإِسْلَامِ إِنِّي سَابِقٌ وَإِذَا تَرَامَيْتُمْ فَسَهْمِي مُثَقِّبُ صلح اور سلامتی میں یقیناً میں پہل کرنے والا ہوں اور جب تم تیر چلاؤ تو میرا تیر چھید دینے والا ہے۔وَإِذَا تَضَارَبْتُمْ فَسَيْفِى قَاطِعٌ وَإِذَا تَطَاعَنتُمْ فَرُمْحِيُّ مُذَرَّبُ اور جب تم شمشیر زنی کرو تو میری تلوار قاطع ہے اور جب تم نیزہ زنی کرو تو میرا نیزہ بھی تیز ہے۔وَإِنَّ الْمُزَوِّرَ لَا يُنَخِيهِ مَكْرُهُ وَإِنْ يَخْفَ فِي غَارٍ عَمِيْقٍ فَيُتَغَبُ مکار کو اس کا مکر بچ نہیں سکتا اور اگر چہ وہ گہرے غار میں بھی مخفی ہو جائے تو بھی وہ ہلاک کیا جائے گا۔تَذَكَّرُ نَصِيْحَةَ غَزْنَوِي صَالِحٍ وَعَلَيْكَ سُبُلَ الرِّفْقِ وَالرِّفْقُ أَعْذَبُ صالح غزنوی (مولوی عبداللہ صاحب) کی نصیحت کو یاد کر اور نرمی کی راہوں کو لازم پکڑ اور نرمی ہی بہت شیریں ہوتی ہے۔وَ كَمْ مِنْ أُمُورِ الْحَقِّ قَلَّبْتَ جُرْأَةَ فَسَوْفَ تَرَى يَوْمًا إِلَى مَا تُقَلَّبُ اور بہت سی کچی باتوں کو تو نے جرات سے الٹ پلٹ کیا سوضرور تو ایک دن دیکھ لے گا کہ تو کس چیز کی طرف پلٹایا جار ہا ہے۔وَإِنْ كُنْتَ ذِى عِلْمٍ فَارِنِى كَمَالَهُ وَمَا يَنْفَعَنُ بَعْدَ الْغَزَاةِ تَصَيُّبُ اور اگر تو صاحب علم ہے تو مجھے تو اس کا کمال دکھا اور لڑائی کے بعد ہتھیاروں کا درست کر نا کوئی نفع نہیں دے گا۔وَ إِنِّي عَلَى عِلْمٍ وَّ زِدْتُ بَصِيرَةً مِّنَ اللهِ فِي أَمْرِى وَ اَنْتَ مُكَذِّبُ اور میں علم پر قائم ہوں اور اپنے معاملہ میں اللہ کی طرف سے بصیرت میں بڑھ گیا ہوں اور تو تکذیب کر رہا ہے۔خَفِ اللَّهَ حَزُمًا يَا ابْنَ مَرُءٍ أَحَبَّنِي فَدَعْ مَايُلَازِمُهُ عَدُوٌّ مُّخَيَّبُ از راہ دانائی اللہ سے ڈر۔اسے اس شخص کے بیٹے !جو مجھ سے پیار کرتا تھا اور چھوڑ دے اس بات کو جس کو نا مراد دشمن اختیار کرتا ہے۔وَمَا يَمْنَعَنَّكَ مِنْ رُجُوعٍ وَتَوْبَةً أَ لَيْتَ جَهْلًا حِلْفَةً فَتُقَرَّبُ ا اور کون سی چیز تجھے رجوع اور تو بہ سے روک رہی ہے؟ آیا تو نے نادانی سے قسم کھا رکھی ہے (اگر ایسا ہے تو) تو ملامت کیا جائے گا۔وَإِنْ كُنْتَ ذَا عُسْرٍ وَّ ضَمْرٍ مُّعَيَّلًا فَإِنْ شَاءَ رَبِّي تُرْزَقَنَّ فَتُحْظَبُ اور اگر تو تنگدست اور لاغر عیال دار ہے تو اگر میرا رب چاہے تو تجھے رزق دیا جائے گا اور تو سیر ہو جائے گا۔