القصائد الاحمدیہ — Page 83
۸۳ وَسِرٌّ لَطِيفٌ فِي هُدَاهُ وَنُكْتَةٌ كَنَجْمِ بَعِيْدٍ نُورُهَا تَتَغَيَّبُ وہ اپنی ہدایت میں ایک لطیف بھید اور ایک نکتہ ہے دور کے ستارے کی طرح جس کا نور چھپارہتا ہے۔وَمَنْ يَأْتِهِ يُقْبَلُ وَمَنْ يُهدَ قَلْبُهُ إِلَى مَا مَنِ الْفُرْقَان لَا يَتَذَبْذَبُ اور جو اس کے پاس آتا ہے قبول کیا جاتا ہے اور جس کے دل کی رہنمائی کی جائے وہ فرقان کی امن گاہ کی طرف (آنے میں ) مذبذب نہیں ہوتا۔يُضِيءُ الْقُلُوبَ وَيَدْفَعَنَّ ظَلَامَهَا وَيَشْفِي الصُّدُورَ سَوَادُهُ وَ يُهَدِّبُ وہ دلوں کو روشن کرتا اور ان کی تاریکیوں کو دور کرتا ہے اور اس کی تحریر سینوں کو شفا دیتی ہے اور مہذب کرتی ہے۔قُلْتُ لَهُ لَمَّا شَرِبْتُ زُلَالَهُ فِدَّى لَكَ رُوحِي أَنْتَ عَيْنِي وَ مَشْرَبُ پس میں نے قرآن سے کہا جب میں نے اس کا شیریں اور صاف پانی پیا۔تجھ پر میری جان قربان ہو کہ تو میرا چشمہ اور گھاٹ ہے۔وَ كَمْ مِنْ عَمِيْنٍ قَدْ كَشَفْتَ غِطَاءَهُمْ وَنَجَّيْتَهُمْ عَمَّا يُعَفّى وَيَشْغَبُ اور بہت سے اندھے ہیں جن کا پردہ تو نے ہٹا دیا۔اور انہیں اس چیز سے تو نے نجات دی جو مٹا دیتی ہے اور فتنہ اٹھاتی ہے۔اَلَا رُبَّ خَصْمٍ خَاضَ فِيْهِ عَدَاوَةً فَالْهَاهُ عَنْ خَوْضٍ سَنَاهُ الْمُؤْتِبُ سنو! بہت سے دشمن ہیں جنہوں نے عداوت سے اس میں نازیبا بحث کی۔برائی سے نفرت دلانے والی اس کی روشی نے انہیں نازیبا بحث سے ہٹا دیا۔وَإِنْ يَفْتَحَنُ عَيْنَيْكَ وَهَّابُ الْهُدَى فَكَأَتِنُ تَرَى مِنْ سِرِّهِ لَكَ مُعْجِبُ اور ہدایت کا عطا کرنے والا اگر تیری دونوں آنکھوں کو کھول دے تو تو اس کے کس قدر بھید دیکھے گا جو تیرے لئے عجیب ہونگے۔وَ أَنَّى لِعَقْلِ النَّاسِ نُورٌ كَنُورِهِ وَإِنَّ النُّهَى بِبَيَانِهِ يَتَهَذَّبُ لوگوں کی عقل میں اس جیسا نور کہاں ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ عقلیں تو اس کے بیان سے ہی سنورتی ہیں۔وَ وَاللَّهِ يَجْرِى تَحْتَهُ نَهْرُ الْهُدَى وَمَنْ أَكْثَرَ الْأَمْعَانَ فِيْهِ فَيَشْرَبُ اور خدا کی قسم! اس کے نیچے تو ہدایت کی نہر بہتی ہے اور جو اس کی گہرائی میں بار بار جائے وہ (اس سے ) پئے گا۔وَ مَنْ يُمْعِنِ الْأَنْظَارَ فِي الْفَاظِهِ فَإِلَى سَنَاهُ الشَّامِ يَصْبُ وَيُسْحَبُ اور جو اس کے الفاظ میں گہری نگاہیں ڈالے گا تو وہ اس کی کامل روشنی کی طرف مائل ہو گا اور کھینچا جائے گا۔