القصائد الاحمدیہ — Page 82
۸۲ فَنُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْكَرِيمِ وَكُتُبِهِ فَأَيْنَ بِحِقْدِكَ يَا مُكَفِّرُ تَذْهَبُ پس ہم خدائے کریم اور اس کی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں۔پس اے مکفر ! تو اپنے کینے کے ساتھ کدھر جا رہا ہے؟ وَيَعْلَمُ رَبِّي كُلَّمَا فِي غَيْبَتِي عَلِيمٌ فَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ مُغَيَّبُ اور میرا رب جانتا ہے جو کچھ میرے صندوق سینہ میں ہے۔وہ بہت جاننے والا ہے۔سو اس پر کوئی امر غیب مخفی نہیں۔وَهَذَا هُدَى اللهِ الَّذِي هُوَ رَبُّنَا فَإِنْ كُنْتَ تَرْغَبُ عَنْ هُدًى لَا نَرْغَبُ اور یہ اس اللہ کی ہدایت ہے جو ہمارا رب ہے سوا اگر تو ہدایت سے اعراض کرتا ہے تو ہم تو اعراض نہیں کریں گے۔وَ إِنَّ سِرَاجِي قَوْلُهُ وَكِتَابُهُ فَإِنْ أَعْصِهِ فَسَنَاهُ مِنْ أَيْنَ أَطْلُبُ اور میرا چراغ تو اس کا فرمودہ اور اس کی کتاب ہے اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اس کی روشنی کہاں سے طلب کروں۔وَإِنَّ كِتَابَ اللهِ بَحْرُ مَعَارِفٍ وَنَجِدَنَّ فِيْهِ عُيُونَ مَا نَسْتَعْذِبُ اور بے شک اللہ کی کتاب تو معارف کا سمندر ہے اور ہم اس میں ضرور ایسے چشمے پاتے ہیں جنہیں ہم شیریں پاتے ہیں۔وَكَمْ مِنْ نِكَاتٍ مِثْلَ غِيْدٍ تَمَتَّعَتْ بِهَا مُهْجَتِى مِنْ هَدْيِ رَبِّي فَجَرِّبُوا اور بہت سے سکتے نازک اندام دلر باؤں کی طرح ہیں کہ ان سے میری جان اپنے رب کی رہنمائی سے لطف اندوز ہوئی۔پس تم بھی تجربہ کرو۔إِذَا مَا نَظَرْتُ إِلَى ضِيَاءِ جَمَالِهِ فَإِذَا الْجَمَالُ عَلَى سَنَا الْبَرْقِ يَغْلِبُ جب میں نے اس کے جمال کی روشنی کو دیکھا تو نا گاہ اس کا حسن بجلی کی روشنی پر بھی غالب آ رہا تھا۔رَأَيْتُ بِنُورِ نُورَهُ فَتَبَيَّنَتْ عَلَيَّ حَقَائِقُهُ فَفِيْهَا أُقَلَّبُ میں نے نور (بصیرت ) کے ذریعہ قرآن کا نور دیکھا تو ظاہر ہو گئے مجھ پر اس کے حقائق اور انہی پر میں غور کرتارہتا ہوں۔يَصُدُّ عَنِ الطَّغَوَى وَ يَهْدِى إِلَى التَّقَى خَفِيرٌ إِلى طُرَقِ السَّلَامَةِ يَجْلِبُ وہ سرکشی سے روکتا ہے اور تقویٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔وہ پناہ دینے والا ہے ( اور ) سلامتی کی راہوں کی طرف کھینچتا ہے۔يَجُرُّ إِلَى الْعُلْيَا وَ جَاءَ مِنَ الْعُلَى كَمَا هُوَ أَمْرٌ ظَاهِرٌ لَيْسَ يُحْجَبُ وہ بلندی کی طرف کھینچتا ہے اور بلندی سے آیا ہے جیسا کہ یہ بات ظاہر ہے پردہ میں نہیں۔