القصائد الاحمدیہ — Page 81
ΔΙ تُوُفِّيَ عِيسَى هَكَذَا قَالَ رَبُّنَا صَرِيحًا فَصَدَّقْنَا وَ لَا نَتَرَيَّبُ عیسی تو وفات پا گیا ہے۔اسی طرح ہمارے رب نے صراحت سے کہا ہے سو ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں اور شک نہیں کرتے۔وَكَيْفَ نُكَذِبُ آيَةً هِيَ قَوْلُهُ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ أَهَمُّ وَ أَوْجَبُ اور کیسے جھٹلا سکتے ہیں ہم اس آیت کو جو خدائی قول ہے اور خدا کی باتوں کی تصدیق تو بہت ہی ضروری اور بہت ہی واجب ہے۔نَهى خَالِقِي أَنْ نُحْيِيَنَّ ابْنَ مَرْيَمَ وَتِلْكَ الَّتِي كَفَّرْتَ مِنْهَا وَ تَنْصَبُ میرے خالق نے منع کر دیا ہے کہ ہم ابن مریم کو زندہ قرار دیں۔یہی وہ مسئلہ ہے جس کی وجہ سے تو نے تکفیر کی ہے اور تو یونہی مشقت اٹھارہا ہے۔وَ لَمْ يَبْقَ لِي فِى مَوْتِهِ رِيحُ رِيْبَةٍ لِمَا الْهَمَنِى مَلِكٌ صَدُوقٌ مُّتَوِّبُ اور میرے لئے تو اس کی موت میں شک کی بُو تک باقی نہیں رہی اس وجہ سے کہ مجھے الہام کیا ہے بچے بادشاہ نے جو متوجہ ہونے والا ہے۔أَقُولُ وَ لَا أَخْشَى فَإِنِّي مَشِيلُهُ وَلَوْعِنْدَ هَذَا الْقَوْلِ بِالسَّيْفِ أُضْرَبُ میں کہتا ہوں اور ڈرتا نہیں کہ بے شک میں اس کا مثیل ہوں خواہ یہ بات کہنے پر مجھے تلوار سے بھی ماردیا جائے۔وَ وَاللَّهِ إِنِّى جِئْتُ حِيْنَ مَجِيْنِهِ وَهُوَ فَارِسٌ حَقًّا وَّ إِنِّي مُحْقِبُ اور خدا کی قسم! میں آیا ہوں اس کی آمد کے وقت پر سوار تو وہ یقینا ہے لیکن میں اسے اپنے پیچھے سوار کر کے لایا ہوں۔وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآن ذِكْرُ وَفَاتِهِ وَمَا جَاءَ فِيهِ هُوَ الَّذِي هُوَ أَصْوَبُ اور قرآن میں اس کی وفات کا ذکر آ چکا ہے اور جو کچھ اس میں آیا ہے وہی زیادہ صحیح ہے۔وَلَوْ كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَمْرٌ خِلَافَةَ لَآثَرْتُهُ دِينًا وَّلَا أَتَجَنَّبُ اور اگر قرآن میں اس کے برخلاف کوئی امر ہوتا تو میں دین کے طور پر اسے ہی اختیار کرتا اور اجتناب نہ کرتا۔وَ لكِنْ كِتَابُ اللهِ يَشْهَدُ أَنَّهُ تَنَاوَلَ مِنْ كَأْسِ الْمَنَايَا فَتَعْجَبُ لیکن اللہ کی کتاب یہ گواہی دیتی ہے کہ یقینا وہ موتوں کا پیالہ پی چکا ہے۔پھر بھی تو حیران ہورہا ہے۔ا مِنْ غَيْرِ مَنْبَعِ هَدْيِهِ نَطْلُبُ الْهُدَى وَكُلٌّ مِّنَ الْفُرْقَانِ يُعْطَى وَيُوْهَبُ کیا ہم اس کی ہدایت کے چشمے کے سواہدایت طلب کریں حالانکہ ہر ایک شخص کو (ہدایت ) قرآن کریم سے ہی دی اور بخشی جاتی ہے۔