القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 80

۸۰ أَتَأْمُرُ بِالتَّقْوَى وَ تَفْعَلُ ضِدَّهُ وَتَنْكُتْ عَهْدًا بَعْدَ عَهْدٍ وَتَهُرُبُ کیا تو تقویٰ کا حکم دیتا ہے اور خود تو اس کے کے مخالف عمل کرتا ہے اور عہد کرنے کے بعد عہد کو توڑ دیتا ہے اور بھاگ جاتا ہے۔وَلِيْ لَكَ فِي أَعْشَارِ قَلْبِي لَوْعَةٌ فَكَفِّرُ وَ كَذِبُ إِنَّنِي لَسْتُ أَغْضَبُ اور میرا حال تو یہ ہے کہ میرے دل کے گوشوں میں تیری محبت کی جلن رچی ہوئی ہے پس تو تکفیر کر اور تکذیب کرتارہ۔یقینا میں غضب میں نہیں آؤں گا۔أَلَا أَيُّهَا الشَّيْخُ اتَّقِ اللَّهَ الَّذِي يَهُدُّ عَمَارَاتِ الْهَوَى وَ يُخَرِّبُ سن اے شیخ! اس اللہ سے ڈر جو حرص و ہوا کی عمارتوں کو ڈھا دیتا اور ویران کر دیتا ہے۔إِذَا مَا تَوَقَدَ قَهُرُهُ يُهْلِكُ الْوَرى فَمَا حِيْصَ مِنْ ابْنِ حُسَامٍ يَعْضِبُ جب اس کا قہر بھڑکتا ہے تو مخلوق کو ہلاک کر دیتا ہے پس نہیں بچایا گیا اس سے کوئی تیز دھار تلوار کا دھنی بھی۔أَتَعْوِى كَمِثْلِ الذِنْبِ وَاللَّهِ إِنَّنِي أَرَاكَ كَأَنَّكَ أَزْنَبِّ أَوْ تَعْلَبُ کیا تو بھیڑیے کی طرح آواز نکالتا ہے۔بخدا میں تجھ کو پاتا ہوں گویا کہ تو خرگوش ہے یا لومڑی۔وَ مَا إِنْ أَرَى فِي خَيْطِ كَبْدِكَ قُوَّةً وَيُصْلِحُ رَبِّي مَا تَهُدُّ وَ تَشْغَبُ اور میں تیرے جگر کے عصبے میں کوئی قوت نہیں پاتا اور میر ارب درست کر دے گا اس عمارت کو جسے تو گرانا چاہتا ہے اور پھر اشتعال پیدا کرتا ہے۔أَلَمْ تَعْرِفَنُ رُؤْيَايَ كَيْفَ تَحَقَّقَتْ وَاَصْدَقَ رُؤْيَا مُؤْمِنٌ لَّا يُكَذَّبُ کیا تو نے نہیں جانا کہ میری خواب کیسی بچی ہوئی اور جس کی خواہمیں بچی ہوں وہ مومن ہوتا ہے (اور ) جھٹلایا نہیں جاسکتا۔وَ يَأْتِيكَ مِنْ آثَارِ صِدْقِى بِكَثُرَةٍ فَلْيَرْقَبَنُ أَوْقَاتَهَا الْمُتَرَقِّبُ اور میری سچائی کے آثار کثرت سے تیرے پاس آئیں گے پس چاہیئے کہ انتظار کرنے والاضرور اس کے وقتوں کا انتظار کرے۔فَإِنْ كُنْتُ كَذَّابًا فَأَنْتَ مُنَعَمْ وَإِنْ كُنْتُ صِدِّيقًا فَسَوْفَ تُعَذَّبُ سواگر میں کذاب ہوں تو تو انعام پائے گا اور اگر میں سچا ہوں تو تو ضر ور عذاب دیا جائے گا۔اَتُكْفِرُنِي فِي أَمْرِ عِيسَى تَجَاسُرًا وَ كَذَّبْتَنِي خِطَأَ وَّ لَسْتَ تُصَوِّبُ کیا تو عیسی کے معاملہ میں جسارت سے میری تکفیر کرتا ہے۔اور تو نے غلطی سے میری تکذیب کی ہے اور تو درست راہ پر نہیں۔