القصائد الاحمدیہ — Page 79
۷۹ وَ شَاهَدتُ أَنَّكَ لَسْتَ أَهْلَ مَعَارِفٍ وَتَلْهُوَ وَ تَهْذِي كَالسُّكَارَى وَ تَلْعَبُ اور میں دیکھ چکا ہوں کہ تو صاحب معرفت نہیں ہے اور لہو ولعب میں مبتلا اور نشہ والوں کی طرح بکواس کر رہا ہے۔نُبُدِ اَخْلَاقًا فَتُبُدِ ذَمِيْمَةٌ وَتَتْرُكُ مَا هُوَ مُسْتَطَابٌ وَأَطْيَبُ جب ہم اخلاق ظاہر کرتے ہیں تو تو بد خلقی ظاہر کرتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے اس ھے کو جو پاک اور ستھری ہے۔وَ عَادَيْتَنِي وَ طَوَيْتَ كَشُحًا عَلَى الأذى وَ رَمَيْتَ حِقْدًا كُلَّمَا كُنْتَ تَجْعَبُ اور تو نے مجھ سے عداوت کی اور دکھ دینے پر مستعد ہو گیا اور تو کینے سے پھینک چکا ہے وہ سب تیر جو ٹو ترکش میں رکھتا تھا۔وَ كُنتَ تَقُولُ سَاَغْلِبَنَّ بِحُجَّتِي وَمَا كُنْتَ تَدْرِي أَنَّكَ الْيَوْمَ تُغْلَبُ اور تو کہتا تھا کہ میں حجت سے ضرور غالب آ جاؤں گا اور تو نہیں جانتا تھا کہ آج تُو مغلوب ہوگا۔وَلَسْتُ بِعَادٍ مُّسْرِفِ بَلْ إِنَّنِي عَرُوفٌ عَلَى إِبْدَائِكُمْ أَتَحَبَّبُ اور میں حد سے گذرنے والا مسرف نہیں ہوں۔بہت نیک سلوک کرنے والا ہوں۔تمہارے دکھ دینے پر بھی محبت رکھتا ہوں۔وَإِنِّي أَمَامَ اللَّهِ فِي كُلِّ سَاعَةٍ وَيَنْظُرُ رَبِّي كُلَّمَا هُوَ اكْسِبُ اور میں ہر گھڑی خدا کے سامنے ہوں اور جو کچھ میں کر رہا ہوں میرا رب اسے دیکھ رہا ہے۔فَإِنْ كُنْتَ عَادَيْتَ الْخَبيثَ تَدَيُّنَّا فَتُكْرَمُ عِنْدَ مَلِيْكِنَا وَ تُقَرَّبُ اگر تو دیانتداری سے خبیث (چیز) سے عدوات رکھ رہا ہے تو تو ہمارے مالک کے سامنے عزت پائے گا اور مقرب ہوگا۔وَإِنْ كُنْتَ قَدْ جَاوَزُتَ حَدَّ تَوَرُّعٍ وَقَفَوْتَ مَالَمْ تَعْلَمَنَّ فَتُعْتَبُ اور اگر تو ایسا ہے کہ پر ہیز گاری کی حد سے تجاوز کر چکا ہے اور تو اس چیز کے پیچھے پڑ گیا ہے جسے تو نہیں جانتا۔تو تو معتوب ہوگا۔فَسَوْفَ تَرى فِي هَذَهِ ضَرْبَ ذِلَّةٍ وَيَوْمُ نَكَالِ اللَّهِ أَخْرَى وَ أَعْطَبُ تو جلد اسی دنیا میں ذلت کی ماردیکھ لے گا اور اللہ کے عذاب کا دن تو بہت رسوا کرنے والا اور بہت ہی مہلک ہے۔وَمَنْ كَانَ لَاعِنَ مُؤْمِنٍ مُّتَعَمِّدًا فَعَلَيْهِ ذِلَّةٌ لَعْنَةٍ لَّا تَنْكُبُ اور جو شخص مومن کو عمد العنت کرنے والا ہو۔پس اس پر لعنت کی ذلت پڑے گی جو نہیں ہٹے گی۔