القصائد الاحمدیہ — Page 70
إِلَى الْآنَ أَنْوَارٌ بِبُرْقَةِ يَشْرِبَ نُشَاهِدُ فِيْهَا كُلَّ يَوْمٍ تَجَدُّدَا اب تک میٹرب کی پتھریلی زمین میں انوار موجود ہیں۔ہر روز ہم ان میں جدت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔فَوَجْهُ الْمَدِينَةِ صَارَ مِنْهُ مُنَوَّرًا وَبَارَكَ حُرَّ الرَّمْلِ وَطُلًّا وَ قِرْدَدَا مدینہ کا چہرہ آپ کی وجہ سے منور ہو گیا اور آپ نے اپنے چلنے پھرنے سے برکت دی خالص ریتلی زمین اور پتھریلی زمین کو بھی۔حَفَافَى جَنَانِي نُورَا مِنْ ضِيَائِهِ فَاصْبَحْتُ ذَافَهُم سَلِيمٍ وَّ ذَا الْهُدَى میرے دل کے دونوں گوشے آپ کی روشنی سے منور ہو گئے تب میں صاحب فہم سلیم اور ہدایت یافتہ ہو گیا۔وَ أَرْسَلَنِي رَبِّي لِتَائِيدِ دِينِهِ فَجِئْتُ لِهَذَا الْقَرْنِ عَبْدًا مُجَدِّدَا اور میرے رب نے مجھے اپنے دین کی تائید کے لئے بھیجا پس میں اس صدی کے لئے ایک عبد مجد دبن کر آیا ہوں۔لَهُ صُحْبَةٌ كَانُوا مَجَانِيْنَ حُبِّهِ وَجَعَلُوا ثَرَى قَدَمَيْهِ لِلْعَيْنِ اثْمَدَا آپ کے کچھ صحابی تھے جو آپ کی محبت میں دیوانے تھے۔انہوں نے آپ کے دونوں قدموں کی خاک کو آنکھ کا سرمہ بنالیا۔وَ اَرَوْا نَشَاطًا عِنْدَ كُلِّ مُصِيبَةٍ كَعَوْجَـاءِ مِرْقَالِ تُوَارِى تَخَدُّدَا اور ہر مصیبت کے وقت انہوں نے خوشی ظاہر کی۔دہلی تیز رو اونٹنی کی طرح جو تیز روی سے ) دبلا پن چھپا دیتی ہے۔وَإِذَا مُرَتِيْنَا أَهَابَ بِغَنَمِهِ فَرَاعُوا إِلَى صَوْتِ الْمُهِيبِ تَوَدُّدَا اور جب ہمارے مربی نے اپنے گلے کو آواز دی تو وہ پکارنے والے کی آواز کی طرف محبت سے لوٹ آئے۔وَ كَانَ وِصَالُ الْحَقِّ فِي نِيَّاتِهِمْ وَخَطَرَاتِهِمْ فَلَاجُلِهِ مَدُّوا الْيَدَا اور ان کی میتیوں میں خدا کا وصال تھا اور ان کے خیالات میں بھی۔اسی لئے انہوں نے ہاتھ بڑھائے۔وَ رَأَوُا حَيَاتَ نُفُوسِهِمْ فِى مَوْتِهِمْ فَجَاءُ وُا بِمَيْدَانِ الْقِتَالِ تَجَلُّدَا اور انہوں نے اپنی جانوں کی زندگی اپنی موت میں پائی سو وہ میدانِ جنگ میں دلیری سے آگئے۔وَ جَاشَتْ إِلَيْهِمُ مِنْ كُرُوبِ نُفُوسِهِمْ وَاَنْذَرَهُمْ قَوْمٌ شَقِيٌّ تَهَدُّدَا اور دکھوں سے ان کی جانیں ابلنے لگیں اور بد بخت قوم نے انہیں دھمکی دے کر ڈرایا۔