القصائد الاحمدیہ — Page 69
۶۹ وَمَا هُوَ إِلَّا نَائِبُ اللهِ فِي الْوَرى وَفَاقَ جَمِيْعًا رَحْمَةً وَّ تَوَدُّدَا اور وہ تو مخلوق میں صرف اللہ کا نائب ہے اور رحمت اور محبت میں وہ سب سے بڑھ گیا ہے۔تَخَيَّرَهُ الرَّحْمَانُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ وَ اَعْطَاهُ مَالَمْ يُعْطَ اَحَدٌ مِنَ النَّدَى خدا نے اسے اپنی خلقت کے درمیان سے چن لیا ہے اور اس کو ایسی نعمت دی ہے جو کس کو نہیں دی گئی۔وَ كَانَ وَجُهُ الْأَرْضِ وَجْهَا مُّسَوَّدًا فَصَارَ بِهِ نُورًا مُّبِيرًا وَّ اغْيَدَا اور روئے زمین تو ایک تاریک سطح تھی پس اس کے ذریعہ وہ سطح نور تاباں اور سرسبز ہوگئی۔وَ اَرْسَلَهُ الْبَارِئُ بِايَاتِ فَضْلِهِ إِلى حِزْبٍ قَوْمٍ كَانَ لُدًّا وَّمُفْسِدَا اور اسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے نشانوں کے ساتھ بھیجا ایسے لوگوں کے گروہ کی طرف جو سخت جھگڑالو اور مفسد تھا۔وَ مُلْكِ تَابَطَ كُلَّ شَةٍ قَوْمُهُ وَكُلُّ تَلَا بَغْيًا إِذَا رَاحَ أَوْغَدَا اور ایسے ملک کی طرف بھیجا جس کے باشندوں نے ہر شر کو بغل میں لے رکھا تھا۔اور ان میں سے ہر ایک نے صبح و شام سرکشی کی پیروی کی تھی۔بِلُوبَةِ مَكَّةَ ذَاتِ حِقْفٍ عَقَنْقَلِ بِلَادٌ تَرَى فِيْهَا صَفِيحًا مُّصَمَّدَا (اسے بھیجا) مکہ کی سنگلاخ زمین میں جو پتھر لیے ٹیلوں والی تھی اور وہ ایسا علاقہ تھا کہ تو اس میں ٹھوس چٹانیں دیکھتا ہے۔وَمَا كَانَ فِيْهَا مِنْ زُرُوعٍ وَّدَوْحَةٍ تُرَى كَالظَّلِيْمِ ثَرَاهُ أَزْعَرَ أَرْبَدَا اور اس میں کوئی کھیتی اور درخت نہ تھے۔اور اس کی مٹی شتر مرغ کی طرح خاکستری اور سیاہی مائل اور بے آب و گیاہ نظر آتی ہے۔تَكَنَّفَ عَقْوَةَ دَارِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَمَاعَةُ قَوْمٍ كَانَ لُدًّا وَّ مُفْسِدَا ایک رات اس کے گھر کے قرب و جوار کا احاطہ کر لیا ایسے لوگوں کے گروہ نے جو جھگڑالو اور مفسد تھا۔فَادْرَكَهُ تَائِيدُ رَبِّ مُّهَيْمِنٍ وَنَجَّاهُ عَوْنُ اللَّهِ مِنْ صَوْلَةِ الْعِدَا کارساز رب کی تائید نے اس کو پالیا اور اللہ کی مدد نے اسے دشمنوں کے حملہ سے نجات دے دی۔تَذَكَّرْتُ يَوْمًا فِيهِ أُخْرِجَ سَيِّدِى فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّي بِمُنْتَدَى مجھے وہ دن یاد آیا جس میں میرے آقا ( ﷺ ) اپنے گھر سے نکالے گئے تو میری آنکھوں سے مجلس ہی میں آنسو بہ پڑے۔