القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 66

۶۶ لَهُ الْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ وَالْمَجْدُ كُلُّهُ وَكُلٌّ لَّهُ مَا لَاحَ أَوْ رَاحَ أَوْ غَدَا ملک۔ملکوت اور بزرگی سب اسی کو حاصل ہے اور اسی کی ہے ہر وہ چیز جوظا ہر ہوئی یا شام یا صبح کو جاتی رہی۔وَ مَنْ قَالَ إِنَّ لَهُ اللَها قَادِراً سِوَاهُ فَقَدْ تَبِعَ الضَّلَالَةَ وَاعْتَدَى اور جس نے کہا کہ اس کا کوئی قادر معبود اس کے سوا ہے تو اس نے گمراہی کی پیروی کی اور سرکش ہو گیا۔هَدَى الْعَالَمِينَ وَ اَنْزَلَ الْكُتُبَ رَحْمَةً وَاَرْسَلَ رُسُلًا بَعْدَ رُسُلٍ وَّ اَكْدَا اس نے مخلوق کو ہدایت دی اور رحمت سے کتابیں نازل کیں اور رسولوں کے بعد رسول بھیجے اور (اس سنت کو ) پختہ کیا۔وَ أَنْتَ اِلهى مَأْمَنِى وَمَفَازَتِي وَمَالِي سِوَاكَ مُعَاوِنٌ يَدْفَعُ الْعِدَا اور اے میرے معبود! تو میری پناہ اور میری مراد ہے اور میرا تیرے سوا کوئی معاون نہیں جو دشمنوں کو دفع کرے۔عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَ أَنْتَ مَلَاذُنَا وَقَدْ مَسَّنَا ضُرِّ وَّ جِئْنَاكَ لِلنَّدَا تجھ پر ہی ہمارا آسرا ہے اور تو ہی ہماری پناہ ہے۔اور ہمیں دکھ پہنچا ہے اور ہم تیرے پاس بخشش کیلئے آئے ہیں۔وَ لَكَ آيَاتُ فِي عِبَادٍ حَمِدَتْهُمْ وَلَاسِيَّمَا عَبْدِ تُسَمِّيهِ أَحْمَدَا تیرے کئی نشان ہیں ان بندوں میں جن کی تو نے تعریف کی ہے اور خاص کر اس بندے میں جس کا نام تو نے احمد ( ﷺ ) رکھا۔لَهُ فِي عِبَادَةِ رَبِّهِ عَلَى مِرْجَلِ وَفَاقَ قُلُوبَ الْعَالَمِينَ تَعَبدَا اپنے رب کی عبادت میں اس میں ہنڈیا کا سا جوش ہے اور عبودیت میں وہ تمام جہانوں کے دلوں پر فوقیت لے گیا ہے۔وَ مِنْ وَجْهِهِ جَلَّى بَعِيدًا وَّ اَقْرَبَا وَأَصَابَ وَابِـلُـهُ تِلَاعًا وَّ جَدْجَدَا اور اپنے مبارک چہرہ سے اس نے دور و نزدیک کو روشن کر دیا اور اس کی بارش ٹیلوں پر بھی برسی ہے اور ہموارز مین پر بھی۔لَهُ أَيَتَا مُوسَى وَ رُوحُ ابْنِ مَرْيَمَ وَعِرْفَانُ إِبْرَاهِيمَ دِينًا وَّ مَرْصَدَا اُسے موسی کے دو معجزے اور عیسیٰ بن مریم کی روح حاصل ہے اور دین اور طریقت کے لحاظ سے ابراہیم کا عرفان بھی۔وَكَانَ الْحِجَازُ وَ مَا سِوَاهُ كَمَيّتٍ شَفِيعُ الْوَرى أَحْيِي وَ أَدْنَى الْمُبَعَدَا اور حجاز اور اس کے علاوہ دیگر ملک مُردے کی طرح تھے۔ساری مخلوق کے شفیع نے (انہیں) زندہ کر دیا اور خدا سے دور (لوگوں) کو قریب کر دیا۔