القصائد الاحمدیہ — Page 51
۵۱ وَ هَنَّانِى رَبِّي بِنَهْجِ مَحَبَّةٍ عَلَى مَا تَضَوَّعَ مِسْكُ فَتْحِيُّ وَعَنْبَرُ میرے رب نے مجھے محبت کے طریق سے مبارکباد دی ہے اس بات پر کہ میری فتح کی کستوری اور عنبر مہک پڑے ہیں۔وَ ذَلِكَ مِنْ بَرَكَاتِ رُوْحِ رَسُولِنَا نَبِيٌّ لَهُ نُوْرٌ مُّبِيرٌ وَّ اَزْهَرُ اور یہ بات ہمارے رسول کی روح کی برکات کیوجہ سے ہے۔وہ ایسا نبی ہے کہ اسکا نور بہت روشن کر نیوالا اور وہ خود بھی بہت روشن ہے۔رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ آمِرٌ مَّانِعٌ مَّعَا بَشِيرٌ نَّذِيرٌ فِي الْكُرُوبِ مُبَشِّرُ وہ مہربان رحیم امروئی کرنیوالا ہے۔بیک وقت بشارت دینے والا۔انذار کر نیوالا اور دکھوں میں خوشخبری دینے والا ہے۔لَهُ دَرَجَاتٌ لَّا شَرِيكَ لَهُ بِهَا لَهُ فَيْضُ خَيْرٍ لَّا تُضَاهِيْهِ أَبْحُرُ اس نبی کے ایسے درجے ہیں جن میں اسکا کوئی شریک نہیں۔اسکی بھلائی کا فیضان ایسا ہے کہ سمندر بھی اسکے مشابہ نہیں ہو سکتے۔تَخَيَّرَهُ الرَّحْمَنُ مِنْ بَيْنَ خَلْقِهِ ذُكَاءٌ بِجَلْوَتِهِ وَ بَدْرٌ مُّنَوَّرُ اسے خدائے رحمان نے اپنی مخلوق میں سے منتخب کر لیا ہے وہ اپنے جلوے میں سورج ہے اور چودھویں کا روشن چاند۔وَكَانَ جَلَالٌ فِى عَرَانِيْنِ وَبُلِهِ خَفَى الْفَارَ مِنْ أَنْفَاقِهِنَّ الْمُمْطِرُ اس کی موسلا دھار بارش کے اوائل میں ہی عظیم الشان برسنے والے بادل نے چوہوں کو ان کے بلوں سے نکال دیا۔رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ كَيْفَ أُمَمٍ جَمِيعِهَا شَفِيعُ الْوَرَى سَلَّى إِذَا مَا أَضْحِرُوا وہ مہربان۔رحیم ہے۔سب قوموں کی پناہ ہے۔مخلوق کا شفیع ہے۔جب وہ جنگی میں پڑ جائیں تو تسلی دیتا ہے۔اَلَا مَا هَرَفْنَا فِي ثَنَاءِ رَسُولِنَا لَهُ رُتْبَةٌ فِيهِ الْمَدَائِحُ تُحْصَرُ سنو! ہم نے اپنے رسول کی تعریف میں مبالغہ نہیں کیا۔اسے تو ایسا مرتبہ حاصل ہے جس میں تعریفیں ختم ہو جاتی ہیں۔وَ إِنَّ أَمَانَ اللَّهِ فِي سُبُلِ هَدْيِهِ فَطُوبَى لِشَخْصِ يَقْتَفِي مَا يُؤْمَرُ اور یقیناً اسکے دین کی راہوں میں اللہ کی امان ہے پس خوشی ہے اس شخص کو جو اس چیز کی پیروی کرتا ہے جس کا حکم دیا جاتا ہے۔سَقَى فَيْهَجَ الْعِرْفَانِ كُلَّ مُصَاحِبِ فَبِنَشْوَةِ الصَّهْبَاءِ سُرُّوا وَ أَبْشَرُوا اس نے جام معرفت ہر مصاحب کو پلایا سو اس شراب معرفت کے نشے سے وہ مسرور اور خوش ہو گئے۔