القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 41

۴۱ 3 سَتَلْغَبُ يَا يَحُمُوْرَ قَوْمٍ مُّحَقَّرٍ وَمِحْضِيرُنَا يَعْدُو وَلَا يَتَحَسَّـ اے حقیر قوم کے گورخر ! تو ضرور تھک جائے گا اور ہمارا گھوڑ دوڑ تار ہے گا اور نہیں تھکے گا۔قَدِ اسْتَخْمَرَ الشَّيْطَانُ نَفْسَكَ كُلَّهَا فَانْتَ لِغُول النَّفْس عَبْدٌ مُّسَخَّرُ شیطان نے تیرے سارے نفس کو مد ہوش کر دیا ہے سوتو نفس کے چھلاوے کا مسخر غلام بن گیا ہے۔أَلَا إِنَّ رَبِّي قَدْ رَأَى مَا صَنَعْتَهُ فَنَفْسُكَ سَوْفَ تُحَجَّرَهُ وَ تُحَوَّرُ آگاہ رہ کہ بے شک میرے رب نے جو کر توت تو نے کی ہے اسے دیکھ لیا ہے۔پس تیرا نفس جلد ہی (اس سے) روکا جائیگا اور تو نا مرادر ہیگا۔اَتُطْفِيُّ نُورًا قَدْ أُريدَ ظُهُورُهَا لَكَ الْبُهْرُ فِى الدَّارَيْنِ وَ النُّورُ يَبْهَرُ کیا تو اس نور کو بجھاتا ہے جس کے ظہور کا ارادہ ہو چکا ہے۔تیرا دونوں جہانوں میں ستیا ناس ہو۔اور نو ر تو روشن ہی رہے گا۔وَإِنِّي أَرى قَدْ بَارَ كَيْدُكَ كُلُّهُ وَيَهْتِكُ رَبِّي كُلَّمَا هُوَ تَسْتُرُ اور میں دیکھتا ہوں کہ تیرا سارے کا سارا منصوبہ برباد ہو گیا ہے۔اور میرا رب ہر اس امر کی پردہ دری کر دیتا ہے جسے تو چھپاتا ہے۔ا تَتْرُكُ أَعْنَابًا وَتَنْقِفُ حَنْظَلًا وَهذَا وَبَالٌ أَنْتَ فِيهِ مُتَبَّرُ کیا تو انگوروں کو چھوڑتا ہے اور حنظل کو توڑتا ہے۔یہ ایک وبال ہے جس میں تو تباہ ہونے والا ہے۔تَيَاهِيرُ قَفْرٍ فِي عُيُونِكَ مَرْبَعٌ وَأَسَرَّكُمْ سِقَطُ الوَى وَحَبَوْكَرُ سنگلاخ چٹیل زمین تیری آنکھوں میں سرسبز کھیتی ہے اور تمہیں خوش کر رہا ہے ریگ رواں کے ٹیلوں کا دامن اور ریگستان۔عَقِيدَتُكُمْ قَدْ صَارَ لِلنَّاسِ ضُحُكَةً وَيَضْحَكُ جُمْهُورٌ عَلَيْهِ وَيُنْكِرُ تمہارا عقیدہ لوگوں کے لئے ہنسی بنا ہوا ہے اور جمہور اس پر ہنستے ہیں اور انکار کرتے ہیں۔رَأَى النَّاسُ بِالتَّحْقِيقِ مَا فِي بُيُوتِكُمْ وَإِجَّارُ بَيْتٍ مِّنْ بَعِيدٍ يَظْهَرُ لوگوں نے تحقیق کی نگاہ سے جو کچھ تمہارے گھروں میں ہے دیکھ لیا ہے اور گھر کی چھت دور سے ہی ظاہر ہو جاتی ہے۔وَلَا يُظْهِرَنْ اِنْجِيْلُكُمْ نَهْجَ الْهُدَى وَهُدَاهُ جَمْجَمَةٌ وَّ قَوْلٌ مُّكَوَّرُ اور تمہاری انجیل ہدایت کی راہ ہر گز ظاہر نہیں کرتی۔اسکی ہدایت غیر واضح ہے اور ایسی بات جو ابہام کے پردوں میں لپٹی ہوئی ہے۔