القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 38

۳۸ وَلَيْسَ تُقَاسُ صِفَاتُهُ بِصِفَاتِنَا وَلَا يُدْرِكُهُ بَصَرٌ وَّلَا مَنْ يُبْصِرُ اور اس ( خدا ) کی صفات کا ہماری صفات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور آنکھ اس کا ادراک نہیں کر سکتی اور نہ کوئی دیکھنے والا۔تَعَالَتْ شُونُ اللهِ عَنْ مَّبْلَغ النُّهَى فَكَيْفَ يُصَوِّرُ كُنهَهُ مُتَفَكِّرُ اللہ کی صفات عقل کی پہنچ سے بالا ہیں۔پس کوئی سوچنے والا اس کی ماہیت کا کیسے تصور کر سکتا ہے۔وَإِنَّ عَقِيدَتَكُمْ خَيَالٌ بَاطِلٌ وَمَا فِي يَدَيْكُمْ مِنْ دَلِيْلٍ يُوَفَّرُ اور بے شک تمہارا عقیدہ ایک باطل خیال ہے اور تمہارے ہاتھوں میں کوئی مکمل دلیل موجود نہیں۔وَلِلْخَلْقِ خَلَّاق فَتَدَعُونَ ذِكْرَهُ وَتَدْعُونَ مَخْلُوقَا وَ لَمْ تَتَفَكَّرُوا اور مخلوق کا ایک ہی خالق ہے۔اس کے ذکر کو تو تم چھوڑتے ہو اور تم مخلوق کو پکارتے ہو اور تم نے سوچا نہیں۔وَ مِنْ ذَاقَ مِنْ طَعْمِ الْمَنَايَا بِقَوْلِكُمْ فَكَيْفَ كَحَي سَرْمَدٍ يَتَصَوَّرُ اور جس نے تمہارے قول کے مطابق موتوں کا مزا چکھ لیا وہ اس دائمی زندہ ہستی کی طرح کیسے متصور ہو سکتا ہے۔وَقَدْ نَوَّرَ الْفُرْقَانُ خَلْقًا بِنُورِهِ وَلَكِنَّكُمْ عُمْيٌ فَكَيْفَ أُبَصِرُ اور قرآن نے اپنے نور سے مخلوق کو منور کر دیا ہے لیکن تم تو اندھے ہو۔سو میں تمہیں کس طرح بینائی دے سکتا ہوں۔أَلَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ عِنْدَ مَفَاسِدٍ إِذَامَا انْتَهَى اللَّيْلَاءُ فَالصُّبْحُ يَحْشُرُ سن لو کہ قرآن خرابیوں کے وقت آیا ہے اور تاریک رات جب ختم ہو جاتی ہے تو صبح نمودار ہو جاتی ہے۔تُرَى صُورَةُ الرَّحْمَانِ فِي خِدْرِ سُوْرِهِ فَهَلْ مِنْ بَصِيْرِ بِالتَّدَبُّرِ يَنْظُرُ خدائے رحمان کی صورت اس ( قرآن ) کی سورتوں کے پردہ میں دکھائی دیتی ہے۔کیا کوئی دیکھنے والا ہے جو تدبر کی نگاہ سے دیکھے؟ تَرَاءَى لَنَا الْحَقُّ الْمُبِينُ بِقَوْلِهِ وَآيَاتُهُ دُرَرٌ وَّ مِسْكَ أَذْفَرُ ہمیں اس (خدا) کے قول سے کھلی کھلی سچائی دکھائی دے رہی ہے۔اور اس کی آیات موتی ہیں اور بہت خوشبودار کستوری۔قُلِ الْآنَ هَلْ فِي كُتِبِكُمْ مِّثْلَ نُورِهِ وَفَكِرُ وَلَا تَعْجَلْ وَنَحْنُ نُذَكَّرُ اب بتا! کہ کیا تمہاری کتابوں میں اس جیسا نور موجود ہے؟ اور سوچ لے اور جلدی مت کر جبکہ ہم تمہیں نصیحت کر رہے ہیں۔