القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 354

۳۵۴ وَلَوْ لَا ثَلْتُ فِيْكَ تَغْلِى لَجِتَنِى فَمِنْهُنَّ جَهَلٌ ثُمَّ كِبْرٌ مُشَوَّرُ اور اگر تین خصلتیں تجھ میں جوش نہ مارتیں تو تو میری طرف آجاتا ان میں سے ایک تو جہالت ہے اور دوسری تکبر جو جوش مارہا ہے۔وَأَخَرُ اَخْلَاقِ يُدُكَ سَمُّهَا هُوَ الْخَوْف مِنْ قَوْمٍ بِحُمْقٍ تَنفَّرُوا اور تیسر ا خلق جس کی زہر تجھ کو ہلاک کر رہی ہے وہ اس قوم سے خوف ہے جو بوجہ اپنی حماقت کے نفرت کرتے ہیں۔وَمَنْ كَانَ يَخْشَى اللَّهَ لَا يَخْشَى الْوَرَى هُوَ الشَّجَرَةُ الطُّوبَى يَنُورُ وَيُثْمِرُ اور جو شخص خدا سے ڈرتا ہے وہ لوگوں سے نہیں ڈرتا وہ درخت طوبیٰ ہے پھول لا تا اور پھل لاتا ہے۔وَمَنْ كَانَ بِاللهِ الْمُهَيْمِنِ مُؤْمِنًا عَلَى نَائِبَاتِ الدَّهْرِ لَا يَتَفَكَّرُ اور جو شخص خدائے مہیمن پر ایمان لاتا ہے وہ زمانہ کے حوادث سے کچھ متفکر نہیں ہوتا۔سَلَامٌ عَلى قَوْمٍ رَأَوْا نَوْرَ دَوْحَتِي فَرَاقَ نَوَاظِرَهُمْ وَلِلْقَطْفِ شَمَّرُوا اور اس قوم پر سلام جس نے میرے درخت کا محض ایک شگوفہ دیکھا اور وہ شگوفہ انکواچھا معلوم ہوا اور پھلوں کے توڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔فَأَيُّ غَبِي أَنْتَ يَا ابْنَ تَصَلُّفٍ تَرَى ثَمَرَاتِى كُلَّهَا ثُمَّ تُقْصِرُ پس اے لاف وگزاف کے بیٹے ! تو کیسا نبی ہے کہ میرے تمام پھلوں کو تو دیکھتا ہے اور پھر کوتاہی کرتا ہے۔سَيَهْدِيْكَ رَبِّي بَعْدَ غَيْ وَشِقْوَةٍ وَذَلِكَ مِنْ وَحْيِ أَتَانِي فَأُخْبِرُ عنقریب خدا تجھے گمراہی کے بعد ہدایت دیگا اور یہ مجھے خدا تعالیٰ کی وحی سے معلوم ہوا ہے۔پس میں خبر کرتا ہوں۔وَنَحْنُ عَلِمْنَا الْمُنْتَهَى مِنْ وَلِيْنَا فَقَرَّتْ بِهِ عَيْنِي وَكُنتُ أَذَكِّرُ اور تیرا انجام کام مجھے اپنے دوست خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا پس اس سے میری آنکھ کو ٹھنڈک پہنچی اور میں یاد دلاتا رہا۔وَوَاللَّهِ لَا أَنْسى زَمَانَ تَعَلُّقِ وَلَيْسَ فُؤَادِي مِثْلَ أَرْضِ تَحَجَّـرُ اور بخدا میں تعلق کے زمانہ کو بھولتا نہیں اور میرا دل ایسا نہیں جیسا کہ زمین پتھریلی ہوتی ہے۔أَرى غَيْظَ نَفْسِى لَاثَبَاتَ لِغَلِيهِ كَمَوْجٍ مِنَ الرَّجَّافِ يَعْلُو وَيَحْدُرُ اور میں اپنے غصہ کو دیکھتا ہوں کہ اس کو کچھ ثبات نہیں وہ دریا کی اس موج کی طرح ہے جو ایک دم میں چڑھتی اور اترتی ہے۔