القصائد الاحمدیہ — Page 351
۳۵۱ تَرَكْتُمُ كَلَامَ اللهِ مِنْ غَيْرِ حُجَّةٍ وَإِنَّ كَلَامَ اللهِ اَهُدى وَاَظْهَرُ تم نے خدا کے کلام کو بے دلیل ترک کر دیا۔اور خدا کا کلام اصل ہدایت اور ظاہر تر ہے۔وَيَسَّرَهُ الْمَوْلَى لِيَذَّكَّرَ الْوَرَى فَلَاشَكَ أَنَّ الذِكرَاجُلَى وَأَيْسَرُ اور خدا نے اس کو سہل کیا تالوگ یاد کریں۔پس کچھ شک نہیں کہ قرآن روشن اور آسان تر ہے۔وَفِيهِ تَجَلَّتْ بَيِّنَتٌ مِّنَ الْهُدَى وَسَمَّاهُ فُرْقَانًا عَلِيمٌ مُقَدِّرُ اور اس میں کھلی کھلی ہدایتیں موجود ہیں۔اور خدا نے اس کا نام فرقان رکھا ہے۔وَسَمَّاهُ تِبْيَانًا وَّ قَوْلًا مُّفَصَّلًا فَايَّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ نَتَخَيَّرُ اور اس کا نام تبیان اور قول مفصل رکھا۔پس کس حدیث کو ہم اس کے بعد اختیار کریں۔فَدَعْ ذِكْرَ بَحْثٍ فِيهِ ظُلْمٌ وَفِرْيَةٌ وَفَكِّرُ بِنُورِ الْقَلْبِ فِيْمَا نُكَرِّرُ پس ایسی بحث کو چھوڑ دے جس میں جھوٹ ہے۔اور نور دل کے ساتھ ہماری باتوں میں غور کر۔لَنَا الْفَضْلُ فِي الدُّنْيَا وَاَنْفُكَ رَاغِمٌ وَكُلُّ صَدُوقٍ لَّا مَحَالَةَ يُظْهَرُ ہمیں دنیا میں بزرگی دی گئی اور تو ذلت میں ہے۔اور ہر ایک راستباز انجام کار غالب کیا جاتا ہے۔عَلَوْنَا بِسَيْفِ اللَّهِ خَصْمَا اَبَا الْوَفَا فَنُمْلِى ثَنَاءَ اللهِ شُكْرًا وَّنَسْطُرُ ہم نے ( خدا کی تلوار سے ) اپنے دشمن ابوالوفا کو مار لیا۔پس ہم خدا کی تعریف از روئے شکر کے لکھتے ہیں۔ايَزْعَمُ أَنَّى قَدْ تَقَوَّلْتُ عَامِدًا فَوَيْلٌ لَّـهُ يُغْوِى الْأَنَاسَ وَيَهْدَرُ وہ گمان کرتا ہے کہ میں نے عمداً جھوٹ بنا لیا۔پس اس پر واویلا کہ لوگوں کو گمراہ اور بکواس کر رہا ہے۔أَرى بَاطِلًا قَدْ ثَلَّمَ الْحَقُّ جُدْرَهُ فَأَضْحَى الْهُدَى مِثْلَ الضُّحَى يُتَبَصَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ سچائی نے باطل کی دیواروں میں سوراخ کر دیا۔پس ہدایت روزِ روشن کی طرح نمایاں ہوگئی۔وَإِنَّى طَبَعْتُ الْيَوْمَ نَظْمَ قَصِيدَتِي وَكَانَ إِلى نِصْفِ تَمَشَّى نُؤْمُبَرُ اور آج میں نے اپنے اس قصیدہ کی نظم کو چھاپ دیا۔اور نومبر کا مہینہ قریباً نصف گذر چکا تھا۔