القصائد الاحمدیہ — Page 344
۳۴۴ كَذلِكَ فِي الْإِسْلَامِ عَاثَ تَشَيُّعُ اَبَادُوْا كَثِيرًا كَاللُّصُوصِ وَدَمَّرُوْا اسی طرح اسلام میں شیعہ مذہب پھیل گیا ہے۔چوروں کی طرح بہتوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔نَرَى شِرْكَهُمْ مِثْلَ النَّصَارَى مُخَوِّفًا نَرَى الْجَاهِلِينَ تَشَيَّعُوا وَ تَنَصَّرُوا ہم ان کے شرک کو نصلای کی طرح خوفناک دیکھتے ہیں۔ہم جاہلوں کو دیکھتے ہیں کہ شیعہ ہوتے جاتے ہیں اور نصرانی بھی۔فَتُبُ وَاتَّقِ الْقَهَّارَ رَبَّكَ يَاعَلِي وَإِنْ كُنْتَ قَدْ أَزْمَعْتَ حَرْبِي فَاحْضُرُ پس اے علی حائری ! تو خدا سے ڈر اور توبہ کر۔اور اگر تو نے میرے مقابلہ کا قصد کر لیا ہے تو میں حاضر ہوں۔عَكَفْتُمْ عَلَى قَبْرِ الْحُسَيْنُ كَمُشْرِي فَلَا هُوَ نَجَّاكُمْ وَلَا هُوَيَنْصُرُ تم نے مشرکوں کی طرح حسین کی قبر کا اعتکاف کیا۔پس وہ تمہیں چھڑا نہ سکا اور نہ مدد کر سکا۔اَلاَ رُبَّ يَوْمٍ كَانَ شَاهِدَ عِجْزِكُمْ وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ إِذَا الصَّحُبُ خُيِّرُوا خبر دار ہو کہ تمہارے عاجز رہنے کے لئے کئی دن گواہ ہیں۔خصوصاً وہ دن جب کہ ابو بکر اور عمر اور عثمان خلیفے ہو گئے اور حضرت علی رہ گئے۔وَيَوْمَ فَعَلْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِغَدْرِكُمْ بِاحْ الحُسَيْنِ وَ وُلْدِهِ إِذْ أَحْصِرُوا اور جب کہ تم نے وہ کام کیا جو کیا حسین کے بھائی مسلم کے ساتھ اور اس کی اولا د کے ساتھ اور وہ قید کئے گئے۔فَظَلَّ الأسارى يَلْعَنُونَ وَفَاتَكُمْ فَرَرْتُمُ وَاهْلُ الْبَيْتِ أَوذُوا وَدُمِّرُوا پس وہ قیدی یعنی اہلِ بیت تمہاری وفا پر لعنت کرتے تھے۔تم بھاگ گئے اور اہل بیت دُکھ دیئے گئے اور قتل کئے گئے۔هُنَاكَ تَرَاءَى عِجْزُ مَنْ تَحْسَبُونَهُ شَفِيْعَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فَتَفَكَّرُوا تب مجز اور شعف اس شخص کا یعنی حسین کا ظاہر ہو گیا۔جس کو تم کہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی قیامت کو وہی شفاعت کرے گا۔زَعَمْتُمْ حُسَيْنًا أَنَّهُ سَيِّدُ الْوَرَى وَكُلُّ نَبِيِّ مِّنْهُ يَنْجُو وَ يُغْفَرُ تم گمان کرتے ہو کہ حسین تمام مخلوق کا سردار ہے۔اور ہر ایک نبی اسی کی شفاعت سے نجات پائے گا اور بخشا جائے گا۔فَإِنْ كَانَ هَذَا الشَّرْكُ فِى الدِّينِ جَائِزًا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللهِ فِى النَّاسِ بُعْثِرُوا پس اگر یہ شرک دین میں جائز ہوتا۔تو تمام پیغمبر محض لغوطور پر مبعوث شمار کئے جاتے۔