القصائد الاحمدیہ — Page 337
۳۳۷ فَكِيدُوا جَمِيعَ الْكَيْدِيَا أَيُّهَا الْعِدَا فَيَعْصِمُنِي رَبِّي وَهَذَا مُقَدَّرُ پس ہر ایک قسم کا مکر مجھ سے کرو اے دشمنو! پس میرا خدا مجھے بچائے گا اور یہی مقدر ہے۔مَضَى وَقْتُ ضَرْبِ الْمُرْهِفَاتِ وَ دَفَوُهَا وَإِنَّا بِبُرْهَانٍ مِّنَ اللَّهِ نَــــحَـرُ وہ وقت گذر گیا جب کہ تلوار میں چلائی جاتی تھیں۔اور ہم خدا کی برہان سے منکروں کو ذبح کرتے ہیں۔وَلِلَّهِ سُلْطَانٌ وَحُكُمْ وَشَوْكَةٌ وَنَحْنُ كَمَاهُ بِالْإِشَارَةِ نَحْضُرُ اور خدا کے لئے تسلط اور حکم اور شوکت ہے۔اور ہم وہ سوار ہیں جو اشارہ پر حاضر ہوتے ہیں۔إِذَا مَا رَأَيْنَا حَائِرًا أَجْهَلَ الْوَرَى طَوَيْنَا كِتَابَ الْبَحْثِ وَالآى أَظْهَرُ اور جب میں نے علی حائری کو جو سب سے جاہل تر ہے دیکھا تو کہا: نشان جو ہم پیش کرتے ہیں وہ ظاہر ہیں، پھر بحث کی کیا حاجت؟ وَمَا كُنتُ بِالصَّمْتِ الْمُخَجِّلِ رَاضِياً وَلَكِن رَّأَيْتُ الْقَوْمَ لَمْ يَتَبَصَّرُ اور میں شرمندہ کرنے والی خاموشی پر راضی نہ تھا۔مگر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ کچھ سوچتے نہیں۔أَخَاطِبُ جَهْرًا لَا أَقُولُ كَخَافِتٍ فَإِنِّى مِنَ الرَّحْمَنِ أَوْحَى وَأَخْبَرُ میں کھلے کھلے مخاطب کرتا ہوں نہ پوشیدہ قول سے۔کیونکہ میں خدا کی طرف سے وحی پاتا اور خبر دیا جاتا ہوں۔أَيَا عَابِدَ الْحَسُنَيْنِ إِيَّاكَ وَاللَّظى وَمَالَكَ تَخْتَارُ السَّعِيْرَ وَتَشْعُرُ اے حسین اور حسن کی عبادت کرنے والے! دوزخ کی آگ سے پر ہیز کر۔تجھے کیا ہو گیا کہ دوزخ کو اختیار کرتا ہے اور جانتا ہے۔وَاَنْتَ امْرَءٌ مِّنْ أَهْلِ سَبِّ وَإِنَّنَا رِجَالٌ لِإِظْهَارِ الْحَقَائِقِ نُؤْمَرُ اور تو وہ آدمی ہے کہ گالیاں دیتا ہے اور ہم لوگ۔وہ آدمی ہیں جو حقیقتوں کے ظاہر کرنے کے لئے حکم دیئے جاتے ہیں۔سَبَبْتَ وَإِنَّ السَّبَّ مِنْ سُنَنِ دِينِكُمْ لِكُلِّ أُنَاسِ سُنَّةٌ لا تُغَيَّرُ تو نے گالیاں دیں اور گالیاں دینا تمہارا طریق ہے۔اور ہر ایک آدمی کے لئے ایک طریق ہے جو نہیں بدلتا۔تَرَى سُقْمَ نَفْسِى مَا تَرَى آيَ رَبِّنَا كَأَنَّكَ غُولٌ فَاقِدُ الْعَيْنِ أَعْوَرُ تو میرے نفس کا عیب دیکھتا ہے اور خدا کے نشان نہیں دیکھتا۔گویا تو ایک دیو ہے آنکھ کھوئی والا یک چشم۔