القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 338

۳۳۸ وَمَا أَفْلَحَ الْعُمَرَانِ مِنْ ضَرْبِ لَعْنِكُمْ فَمِثْلِى لِهَذَا اللَّعْنِ أَحْرَى وَأَجْدَرُ اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہانے تمہارے سے مخلصی نہیں پائی۔پس میرے جیسا آدمی اس لعنت کے لئے لائق تر ہے۔رُوَيْدَكَ دَأْبَ اللَّعُنِ هَذَا وَصِيَّتِى وَبَعْضُ الْوَصَايَا مِنْ مَّنَايَا تُذَكَّرُ لعنت کرنے کی عادت کو چھوڑ دے۔یہ میری وصیت ہے۔اور بعض وصیتیں موتوں کے وقت یاد آئیں گی۔وَيَأْتِي زَمَانٌ يَسْتَبِيْنُ خِفَاءُنَا فَمَالَكَ لَا تَخْشَى وَلَا تَتَبَصَّرُ اور وہ زمانہ آتا ہے کہ ہماری پوشیدگی ظاہر ہو جائے گی۔پس تجھے کیا ہو گیا کہ نہ تو ورتا ہے اور نہ حق کو پہچانتا ہے۔وَلَا تَذْكُرُوا الْأَخْبَارَ عِنْدِي فَإِنَّهَا كَجَلْدَةِ بَيْتِ الْعَنْكَبُوتِ تُكَسَّرُ اور میرے پاس محض خبروں کا کچھ ذکر مت کرو۔کہ وہ عنکبوت کے گھر کی طرح توڑی جاسکتی ہیں۔وَأَنَّى لِاخْبَارٍ مُقَامٌ وَمَوْقَفٌ لَدَى شَأْنِ فُرْقَانِ عَظِيمٍ مُعَزَّرُ اور خبریں بمقابلہ اس کتاب کے کہاں ٹھہر سکتی ہیں۔جو خدا کا بزرگ کلام قرآن شریف ہے۔فَلَا تَقْفُ أَمْر الستَ تَعْرِفُ سِرَّهُ فَتُسْأَلُ بَعْدَ الْمَوْتِ يَامُتَهَوِّرُ پس ایسے امر کی پیروی مت کر جس کا بھید تجھے معلوم نہیں۔پس موت کے بعد اے دلیری کرنے والے! تو ضرور پوچھا جائے گا۔وَلَسْتُ بِتَوَّاقٍ إِلى مَجْمَعِ الْعِدَا وَلَكِنْ مَتَى يَسْتَحْضِرُ الْقَوْمُ اَحْضُرُ اور میں خواہ مخواہ دشمنوں کے مجمع کی طرف توجہ شوق نہیں رکھتا۔مگر جب مخالف لوگ مجھے بلاتے ہیں تو میں حاضر ہو جاتا ہوں۔وَلِلَّهِ فِي أَمْرِى عَجَائِبُ لُطْفِهِ أَشَاهِدُهَا فِي كُلِّ وَقْتِ وَانْظُرُ اور خدا کو میرے کام میں اپنی مہربانی کے عجائبات ہیں۔میں ان کو ہر ایک بات میں مشاہدہ کرتا ہوں۔عَجِبْتُ لِخَتُمِ اللهِ كَيْفَ أَضَلَّكُمْ فَمَا أَنْ أَرَى فِيْكُمْ رَشِيدًا يُفَكِّرُ میں خدا کی مہر پر تعجب کرتا ہوں کیوں کہ تم کو گمراہ کر دیا۔پس میں تم میں کوئی ایسا رشید نہیں دیکھتا جوفکر کرتا ہو۔وَهَلْ مِنْ دَلِيْلٍ عِنْدَكُمْ تُؤْثِرُونَهُ فَإِنْ كَانَ فَأْتُوْنَا فَإِنَّا نُفَكِّرُ اور کیا کوئی دلیل تمہارے پاس ہے جس کو تم نے اختیار کر رکھا ہے؟۔پس اگر ہو تو پیش کرو کہ ہم اس میں سوچیں گے۔