القصائد الاحمدیہ — Page 23
۲۳ ایک وَ نُورٌ كَامِلٌ كَالْبَدْرِتَامٌ وَوَجُهُ يَسْتَنِيرُ وَلَا يُلَاحُ اور مجھے چودھویں کے چاند کی طرح کامل نور حاصل ہے اور ایسا چہرہ حاصل ہے جو چمکتا ہے اور متغیر نہیں کیا جاسکتا۔وَنَحْنُ الْيَوْمَ نُسْقَى مِنْ غَبُوقٍ وَبَعْدَ اللَّيْلِ عِيدٌ وَّاصْطِبَاحُ اور آج تو ہم شام کی شراب ( معرفت ) پی رہے ہیں۔اور رات گذر جانے کے بعد عید ہوگی اور پھر صبح کی شراب۔وَ أَعْطَانِي الْمُهَيْمِنُ كُلَّ نُورٍ وَلِى مِنْ فَضْلِهِ رَوْحٌ وَ رَاحُ اور خدا خدائے تھیمن نے مجھے ہر ایک نور عطا کیا ہے اور مجھے اس کے فضل سے راحت اور آسائش حاصل ہے۔أَتَقْتُلُنِى بِغَيْرِ تُبُوتِ جُرُمٍ فَقُلْ مَايَصْدُرَتْ مِنِّى جُنَاحُ کیا تو مجھے ثبوت جرم کے بغیر قتل کرے گا؟ سو بتا تو سہی مجھ سے کون سا گناہ صادر ہورہا ہے؟ قَتَلْنَا الْكَافِرِينَ بِسَيْفِ حُجَجِ فَلَا يُرجى لِقَاتِلِنَا فَلَاحُ ہم نے کافروں کو دلائل کی تلوار سے قتل کر دیا ہے۔پس ہمارے قتل کا ارادہ کرنے والے کے لئے کوئی کامیابی کی امید نہیں ہوسکتی۔وَلَيْسَ لَنَا سِوَى الْبَارِى مَلَاظٌ وَلَا تُرْسٌ يَصُونُ وَلَا السّلاحُ اور ہمارے لئے خدا کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی ڈھال ہے جو بچائے اور نہ ہتھیار۔أَتَعْلَمُ كَيْفَ يَسْفَعُ بِالنَّوَاصِي مَلِيْكَ لَّا يُنَاوِحُهُ الطَّمَاحُ کیا تو جانتا ہے کس طرح کھینچے گا پیشانیوں سے پکڑ کر وہ بادشاہ جس کے مقابل تکبر نہیں ٹھہر سکتا۔يَهُدُّ الرَّبُّ ذِرْوَةَ كُلَّ طَوْدٍ وَتَتْبَعُهُ الْاسِنَّةُ وَالصَّفَاحُ رب ہر ٹیلے کی چوٹی کو ڈھا دے گا اور نیزے اور تلواریں اس کے پیچھے آئیں گے۔أَتَقْتُلُنِي بِسَيْفِ يَا خَصِيمِي وَقَتْلِى عِنْدَكُمْ أَمْرٌ مُّبَاحُ اے میرے دشمن ! کیا تو مجھے تلوار سے قتل کرتا ہے؟ اور میر قتل تمہارے نزدیک ایک جائز امر ہے۔وَقَدْ مِتْنَا بِسَيْفِ مِنْ حَبِيبٍ عَلَى ذَرَّاتِنَا تَسْفِي الرِّيَاحُ حالانکہ ہم تو ( پہلے ہی ) محبوب کی ایک تلوار سے مر چکے ہیں اور ہمارے ذرات پر ہوائیں چل رہی ہیں۔