القصائد الاحمدیہ — Page 22
۲۲ وَمَا نَالُوْكَ نُصْحايَا حَبِيبِي وَجَاهَدْنَا لِيَرْتَبِطَ النِّصَاحُ اوراے میرے دوست ! ہم تیری خیر خواہی میں کمی نہیں کرتے اور ہم نے تو کوشش کی ہے کہ خیر خواہی کے تعلقات مضبوط ہوں۔وَنُصْحِيْ خَالِصٌ لَا نَوْعُ هَزْلٍ وَجِدٌ لَا يُخَالِطُهُ الْمَزَاحُ اور میری خیر خواہی خالص ہے بیہودہ قسم کی نہیں اور سنجیدہ ہے جس میں کوئی ہنسی مذاق شامل نہیں۔فَيَاحِي تَفَكَّرُ فِي كَلَامِي فَإِنَّ الْفِكْرَ لِلتَّقْوَى وُشَاحُ سواے میرے دوست! میرے کلام میں سوچ سے کام لے کیونکہ غور وفکر تو اتقویٰ کا مزین ہار ہے۔وَلِي وَجُدْ لِقَوْمِي فَوْقَ وَجُدٍ وَمَا وَجُدُ الكَوَاكِل وَالنِّيَاحُ اور مجھے درد ہے اپنی قوم کیلئے ہر درد سے بڑا۔اور ان عورتوں کے درد کو جنکے بچے مر جائیں اور انکے رونے چلانے کو میرے درد سے کیا نسبت۔إِلَيْكُمْ يَا أُولِى مَجْدِ إِلَيْكُمْ وَإِنْ لَّمْ تَنتَهُوا فَالْوَقْتُ لَاحُ باز آ جاؤ اے بزرگو! باز آجاؤ۔اگر تم باز نہ آؤ تو وقت ملامت کرے گا۔وَلِي قَدَرٌ عَظِيمٌ عِندَرَبَى وَسُبُلِى لَا يُرَدُّ وَ لَا يُزَاحُ اور میرے رب کے حضور میں میرا بڑا مرتبہ ہے اور میری دعار نہیں کی جاتی اور نہ ہی ٹالی جاتی ہے۔وَمِثْلِى حِيْنَ يَبْكِي فِي دُعَاءٍ فَيَسْعَى نَحْوَهُ فَضْلٌ مُّتَاحُ اور میرے جیسا آدمی جب دعا میں روتا ہے تو اس کی طرف فضل مقدر دوڑ کر آتا ہے۔وَ كَادَتْ تَلْمَعَنُ أَنْوَارُ شَمْسِى فَيَتْبَعُهَا الْوَرَى إِلَّا الْوَقَاحُ اور قریب ہے کہ میرے سورج کے انوار چمکیں اور پھر سوائے بے شرم کے سارا جہان ان کے پیچھے چلے گا۔وَيَأْتِي يَوْمُ رَبِّي مِثْلَ بَرْقٍ فَلَا تَبْقَى الْكِلَابُ وَلَا النُّبَاحُ اور میرے رب کا دن بجلی کی طرح آئے گا۔پس نہ کتے باقی رہیں گے نہ ہی ان کا بھونکنا۔6 وَلِيٍّ مِنْ لُطْفِ رَبِّى كُلَّ يَوْمٍ مَرَاتِبُ ، لِلْعِدَا فِيهَا افْتِضَاحُ اور میرے لئے اپنے رب کی مہربانی سے ہر روز ایسے مدارج ہیں کہ دشمنوں کے لئے ان میں رسوائی ہی رُسوائی ہے۔