القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 318

۳۱۸ نَبَذْتُمْ هُدَى الْمَوْلَى وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ فَدَعْنِي أُبَيِّنُ كُلَّمَا كَانَ يُسْتَرُ تم نے خدا تعالیٰ کی ہدایتوں کو پس پشت پھینک دیا۔پس مجھے چھوڑ دے تا میں بیان کروں جو کچھ پوشیدہ کیا گیا ہے۔وَ إِنِّي أَخَذْتُ الْعِلْمَ مِنْ مَّنْبَعِ الْهُدَى وَأَجْرَى عُيُونِي فَضْلُهُ الْمُتَكَفِّرُ اور میں نے علم کو منبع ہدایت سے لیا ہے۔اور اُس کے فضل نے میرے چشمے جاری کر دیئے ہیں۔وَ أُعْطِيتُ مِنْ رَّبِّى عُلُومًا صَحِيحَةً وَاَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ وَأَعْثَرُ اور میں نے اپنے رب سے علوم صحیحہ پائے ہیں۔اور جو کچھ تم نہیں جانتے وہ مجھے سکھلایا جاتا اور اطلاع دیا جاتا ہے۔وَكَأْسٍ سَقَانِی رُوحُ رُوحِي كَأَنَّهَا رَحِيقٌ كَنَجْمِ نَاصِعِ اللَّوْنِ أَحْمَرُ اور کئی پیالے میری جان کی جان نے مجھے ایسے پلائے ہیں۔کہ گویا ستارہ کی طرح ایک شراب ہے خالص سُرخ رنگ۔فَلَا تُبْشِرُوا بِالنَّقْلِ يَا مَعْشَرَ الْعِدَا وَكَمْ مِنْ نُّقُولٍ قَدْ فَرَاهَا مُسَحْرُ پس اے مخالفو محض نفلوں کے ساتھ خوش مت ہو جاؤ۔اور بہتیری نقلیں اور حدیثیں ہیں جو دھوکا باز نے بنائی ہیں۔هَلِ النَّقْلُ شَيْءٌ بَعْدَ إِبْحَاءِ رَبِّنَا فَايَّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ نَتَخَيَّرُ اور خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد نقل کی کیا حقیقت ہے۔پس ہم خدا تعالیٰ کی وحی کے بعد کس حدیث کو مان لیں۔وَقَدْ مُزَّقَ الْأَخْبَارُ كُلَّ مُمَزَّقٍ فَكُلُّ بِمَا هُوَ عِنْدَهُ يَسْتَبْشِرُ اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔اور ہر ایک گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔اعِندَكَ بُرُهَانٌ قَوِيٌّ مُنَقَّحٌ عَلى فَضْلِ شَيْخِ عَابَ أَوْ أَنْتَ تَهْذِرُ کیا تیرے پاس مولوی محمد حسین کی فضیلت کی کوئی دلیل ہے۔جو میرے کلام کا عیب نکالتا ہے؟ یا تو یوں ہی بکواس کر رہا ہے۔ا تَحْسَبُ مِنْ حُمْقٍ حُسَيْنَا مُّحَقِّقَا وَفِي كَفِّهِ حَمَاوَ مَاءٌ مُكَدَّرُ کیا تو حمق سے محمد حسین کو عالم سمجھتا ہے۔اور اس کے ہاتھ میں مٹی سیاہ اور گندا پانی ہے۔ا تُخْبِرُنِى مِنْ نَّازِلٍ مَّا رَأَيْتَهُ وَتَذْكُرُ أَخْبَارًا دَفَاهَا التَّغَيُّرُ کیا تو میرے پاس اس اُترنے والے کا ذکر کرتا ہے جس کو تو نے نہیں دیکھا۔اور ایسی حدیثیں پیش کرتا ہے جن کا تحریف نے ستیا ناس کر دیا۔