القصائد الاحمدیہ — Page 319
۳۱۹ وَتَعْلَمُ أَنَّ الظَّنَّ لَيْسَ بِقَاطِع وَأَنَّ الْيَقِيْنَ الْبَحْتَ يُرُوِيَ وَيُثْمِرُ اور تُو جانتا ہے کہ ظن کوئی قطعی دلیل نہیں۔اور یقین وہ چیز ہے کہ سیراب کرتا اور پھل لاتا ہے۔وَلَسْتُ كَمِثْلِكَ فِي الظُّنُون مُقَيَّدًا وَإِنِّي أَرَى اللَّهُ الْقَدِيرَ وَ أَبْصِرُ اور میں تیری طرح ظنوں میں گرفتار نہیں۔میں اپنے قادر خدا کو دیکھ رہا ہوں اور مشاہدہ کر رہا ہوں۔اَخَذْنَا مِنَ الْحَيِّ الَّذِي لَيْسَ مِثْلُهُ وَأَنْتُمْ عَنِ الْمَوْتَى رَوَيْتُمْ فَفَكَّرُوا ہم نے اُس سے لیا کہ وہ حتی و قیوم اور واحد لا شریک ہے۔اور تم لوگ مُردوں سے روایت کرتے ہو۔أرَبَّى بِفَضْلِ اللَّهِ فِى حَجْرِ لُطْفِهِ وَفِي كُلِّ مَيْدَانِ أُعَانُ وَانْصَرُ میں خدا کی کنار عاطفت میں پرورش پارہا ہوں۔اور ہر ایک میدان میں مدد دیا جاتا ہوں۔وَقَدْ خَصَّنِي رَبِّي بِفَضْلٍ وَّرَحْمَةٍ وَّنَصْرِوَّتَائِيدٍ وَّ وَحْيِ يُكَرَّرُ اور میرے رب نے اپنے فضل اور رحمت سے مجھے خاص کر دیا۔اور نیز تائید اور نصرت اور متواتر روحی سے مجھے مخصوص فرمایا ہے۔سَقَانِى مِنَ الْأَسْرَارِ كَأْسًا رَوِيَّةٌ هَدَانِي إِلى نَهْجِ بِهِ الْحَقُّ يَبْهَرُ مجھے وہ پیالہ پلایا جو سیراب کرنے والا ہے۔اور اس راہ کی مجھے ہدایت کی جس کے ساتھ حق چمکتا ہے۔فَدَعُ أَيُّهَا الْمُغْوِى حُسَيْنًا وَّ ذِكْرَهُ اَتَذْكُرُ لَيْلًا عِندَ شَمْسٍ تُنَوِّرُ پس اے اغوا کر نیوالے ! محمد حسین اور اُس کے ذکر کو چھوڑ دے۔کیا تو سورج کے مقابل پر ایک رات کا ذکر کرے گا۔وَ نَحْنُ كُمَاةَ اللَّهِ جِئْنَا بِأَمْرِهِ حَلَلْنَا بِلَادَ الشِّرْكِ وَاللَّهُ يَخْفُرُ ہم خدا کے سوار ہیں۔اُس کے حکم سے آئے ہیں۔اور شرک کے شہروں میں ہم داخل ہوئے ہیں اور خدا ر ہنمائی کر رہا ہے۔أَقُولُ وَلَا أَخْشَى فَإِنِّي مَسِيحُهُ وَلَوْ عِندَ هَذَا الْقَوْلِ بِالسَّيْفِ أَنْحَرُ میں بے دھڑک کہتا ہوں کہ میں خدا کا مسیح موعود ہوں۔اگر چہ میں اس قول پر تلوار سے قتل بھی کیا جاؤں۔وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ ذِكْرُ فَضَائِلِي وَذِكْرُ ظُهُورِى عِندَ فِتَنِ تُشَوَّرُ اور میرے فضائل کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔اور میرے ظہور کا ذکر بھی پر آشوب زمانہ میں ہونا لکھا ہے۔