القصائد الاحمدیہ — Page 312
۳۱۲ وَ إِنْ كَلَامِي صَادِقٌ قَوْلُ خَالِقِي وَمَنْ عَاشَ مِنْكُمْ بُرْهَةً فَسَيَنْظُرُ اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خدا کا قول ہے۔اور جو شخص تم میں سے کچھ زمانہ زندہ رہے گاوہ دیکھ لے گا۔اَ تَعْجَبُ مِنْ هَذَا فَلَا تَعْجَبَنْ لَّهُ كَلَامٌ مِّنَ الْمَوْلَى وَ وَحْيٌ مُطَهَّرُ کیا تو اس سے تعجب کرے گا پس کچھ تعجب نہ کر۔یہ خدا کا کلام ہے اور پاک وحی ہے۔وَمَا قُلْتُهُ مِنْ عِنْدِ نَفْسِى كَرَاجِمٍ أُرِيتُ وَمِنْ أَمْرِ الْقَضَا أَتَحَيَّرُ اور میں نے اپنے ہی دل سے اٹکل سے بات نہیں کی۔بلکہ کشفی طور پر مجھے دکھلایا گیا اور میں اس سے حیران ہوں۔أَقَلْبُ حُسَيْنِ يَهْتَدِى مَنْ يَظُنُّهُ عَجِيْبٌ وَّعُنَدَ اللَّهِ هَيْنٌ وَّ أَيْسَرُ کیا محمدحسین کا دل ہدایت پر آجائے گا یہ کون گمان کر سکتا ہے؟۔عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔قَلَقَةُ أَشْخَاصِ بِهِ قَدْ رَأَيْتُهُمْ وَمِنْهُمُ الهِيَ بَخْشُ فَاسْمَعُ وَ ذَكِّرُ تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں۔ایک اُن میں سے الہی بخش اکو نٹنٹ ملتانی ہے پس سُن اور سُنا دے۔لَعَمُرُكَ ذُقْنَا دُونَ ذَنْبٍ رِمَاحَهُمْ فَمَا سَرَّنَا إِلا دُعَاءُ يُكَرَّرُ تیری قسم! کہ ہم نے بغیر گناہ کے ان کے نیزوں کا مزہ چکھا۔پس ہمیں یہی اچھا معلوم ہوا کہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔فى ذُكِّرُوا يَغْتَمُّ قَلْبِى بِذِكْرِهِمْ بِمَا كَانَ وَقْتْ بِالْمُلَا قَاةِ نُبْشِرُ جب وہ ذکر کئے جاتے ہیں تو میرا دل غمناک ہو جاتا ہے۔کیونکہ یاد آتا ہے کہ ایک دن ہم ملاقات سے خوش ہوتے تھے۔ا أَرْضِعْتَ مِنْ غُولِ الْفَلَا يَا اَبَا الْوَفَا فَمَالَكَ لَا تَخْشَى وَلَا تَتَفَكَّرُ کیا تجھے جھوٹ کا دودھ پلایا گیا ؟ ا ثناء اللہ۔پس تجھے کیا ہو گیا کہ نہ ڈرتا ہے نہفکر کرتا ہے۔تَرَكْتُمُ سَبِيلَ الْحَقِّ وَالْخَوْفِ وَالْحَيَا وَجُزُتُمْ حُدُودَ الْعَدْلِ وَاللهُ يَنْظُرُ تم نے حق کو چھوڑ دیا۔اور عدل سے باہر ہو گئے اور اللہ دیکھتا ہے۔وَكَيْفَ تَرى نَفْسٌ حَقِيقَةً وَحْيِنَا يُصِرُّ عَلَى كِذْبٍ وَّ بِالسُّوءِ يَجْهَرُ ایسا آدمی ہماری وحی کی حقیقت کیا جانتا ہے۔جو جھوٹ پر اصرار کرتا ہے اور کھلی بدگوئی کرتا ہے۔