القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 311

۳۱۱ وَمَا الْعِزُّ إِلا بِالتَّوَرُّع وَالتَّقَى وَ بُعْدِ مِّنَ الدُّنْيَا وَقَلْبٍ مُّطَهَّرُ اور عزت تو پر ہیز گاری کے ساتھ ہوتی ہے۔اور دنیا سے علیحدہ ہونے اور دل پاک کرنے میں۔وَإِنَّ حَيَاةَ الْغَافِلِينَ لَذِلَّةٌ فَسَلُ ، قَلْبُهُ زَادَ الصَّفَا أَوْ تَكَدَّرُ اور غفلت کی زندگی ایک ذلت ہے۔پس اُس سے پو چھ کہ کیا پہلے کی نسبت اس کا دل صاف ہے یاڈ نیا کی کدورت میں مشغول ہے۔إِذَا نَحْنُ بَارَزْنَا فَأَيْنَ حُسَيْنُكُمْ وَإِنْ كُنْتَ تَحْمَدُهُ فَأَعْلِنُ وَأَخْبِرُ جب ہم میدان میں آئے تو تمہارا حسین کہاں ہوگا۔اور اگر تو اس کی تعریف کرتا ہے پس اُس کو خبر دے دے۔ا تَحْسَبُهُ حَيَّا وَتَاللَّهِ إِنَّنِي آرَاهُ كَمَنْ يُدْفَى وَيُفْنَى وَيُقْبَرُ کیا تو اس کو زندہ سمجھتا ہے اور بخدا! میں دیکھتا ہوں اُس کو مثل اُس شخص کے جو گشتہ ہے اور مر گیا اور قبر میں داخل ہو گیا۔د وَلَوْشَاءَ رَبِّي كَانَ يَبْغِي هِدَايَتِى وَلَوْ شَاءَ رَبِّي كَانَ مِمَّنْ يُبَصَّرُ اور اگر میرا خدا چاہتا تو وہ ہدایت قبول کرتا۔اور اگر میرا خدا چاہتا تو وہ مجھے پہچان لیتا۔وَمَا إِنْ قَنَطُنَا وَالرَّجَاءُ مُعَظَّمٌ كَذلِكَ وَحْـيُّ اللَّهِ يُدْرِى وَ يُخْبِرُ اور ہم اُس کے ایمان سے نا امید نہیں ہوئے بلکہ اُمید بہت ہے۔اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے۔وَإِنَّ قَضَاءَ اللَّهِ مَا يُخْطِئُءُ الْفَتَى لَهُ خَافِيَاتٌ لا يَرَاهَا مُفَكِّرُ اور خدا کا حکم مرد راہ کو بھولتا نہیں۔اُس کے لئے پوشیدہ راز ہیں کہ کوئی فکر کرنے والا ان کو دیکھ نہیں سکتا۔سَيُبْدِى لَكَ الرَّحْمَنُ مَقْسُوْمَ حِبِّكُمْ سَعِيدٌ فَلَا يُنْسِيْهِ يَوْمٌ مُّقَدَّرُ تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کر دے گا۔سعید ہے پس روز مقت راس کو فراموش نہیں کریگا۔وَيُحيى بِأَيْدِى اللَّهِ وَاللَّهُ قَادِرٌ وَيَأْتِي زَمَانُ الرُّشْدِ وَالذَّنْبُ يُغْفَرُ اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جائیگا اور خدا قادر ہے۔اور رُشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔فَيَسْقُونَهُ مَاءَ الطَّهَارَةِ وَالقَى تَسِيمُ الصَّبَا تَأْتِي بِرَيَّا يُعَطَّرُ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں گے۔اور نسیم صبا خوشبولائے گی اور معطر کر دے گی۔