القصائد الاحمدیہ — Page 310
۳۱۰ فَمَا الْخَوْف فِي هَذَا الْوَغَا يَا اَبَا الْوَفَا لِيُمْلِ حُسَيْنٌ أَوْ ظَفَرُ أَوْ أَصْغَرُ پس اسے ثناء اللہ ! اس لڑائی میں تجھے کیا خوف ہے۔چاہیئے کہ محد حسین اس کا جواب لکھے یا قاضی ظفر الدین یا اصغر علی۔وَ إِنِّي أَرَى فِى رَأْسِهِمْ دُودَ نَخْوَةٍ فَإِنْ شَاءَ رَبِّي يُخْرِجَنَّ وَ يَجُدُرُ اور میں ان کے سر میں تکبر کے کیڑے دیکھتا ہوں۔اور اگر خدا چاہے تو وہ کیڑے نکال دے گا اور جڑ سے اکھاڑ دے گا۔وَ إِنْ كَانَ شَأْنُ الْأَمْرِ اَرْفَعَ عِنْدَكُمْ فَايْنَ بِهَذَا الْوَقْتِ مَنْ شَانَ جَوْلَرُ پس اگر یہ کام ان لوگوں کے ہاتھ سے تیرے نزدیک بڑھ کر ہے۔پس اس وقت مہر علی شاہ کہاں ہے جس نے گولڑہ کو بدنام کیا۔اَمَيْتٌ بِقَبْرِ الْغَيِّ لَا يَنُبَرِئُ لَنَا وَمَنْ كَانَ لَيْئًا لَا مَحَالَةَ يَزْءَ رُ کیا وہ مُردہ ہے جو اب باہر نہیں نکلے گا۔اور شیر تو ضرور نعرہ مارتا ہے۔وَ إِنْ كَانَ لَا يَسْطِيعُ إِبْطَالَ ايَتِى فَقُلْ خُذْ مَزَامِيرَ الضَّلَالَةِ وَازْمُرُ اور اگر وہ میرے اس نشان کو باطل نہیں کر سکتا۔پس کہ طنبور وغیرہ بجایا کر۔تجھے علم سے کیا کام۔اَغَلَّطَ إِعْجَازِى حُسَيْنٌ بِعِلْمِهِ وَهَيْئَاتَ مَاحَوُلُ الْجَهُوْلِ أَتَسْخَرُ کیا میری کتاب اعجاز مسیح کی مد حسین نے غلطیاں نکالیں۔اور یہ کہاں ہوسکتا ہے اورمحمدحسین کی کیا طاقت ہے؟ کیا نہی کر رہا ہے؟ وَ إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ بِعِلْمٍ حُسَيْنُكُمْ فَمَالَكَ لَا تَدْعُوهُ وَالْخَصْمُ يَحْصُرُ اور اگر تمہارا محمد حسین کچھ چیز ہے۔پس تو اُس کو کیوں نہیں بلاتا اور دشمن سخت گرفت کر رہا ہے۔وَنَحْسَبُه كَالْحُوتِ فَأْتِ بِنَظْمِهِ مَتَى حَلَّ بَحْرًا نَقْتَنِصُهُ وَنَأْسِرُ ار ہم تو اسکو ایک مچلی کی طرح سجھتے ہیں۔پس اس کی نظم پیش کر۔جب وہ شعر کے بحروں میں سے کی بھرمیں داخل ہوا تو ہم اس کو شکار کرلیں گے اور پھر لیں گے۔وَ إِنْ يَأْتِنِي أَصْبَحُهُ كَأْسًا مِنَ الْهُدَى فَاَحْضِرُهُ لِلْإِمْلَاءِ إِنْ كَانَ يَقْدِرُ اگر وہ میرے پاس آئے گا تو اُسی صبح ہدایت کا پیالہ پلاؤں گا۔پس اُس کو لکھنے کیلئے حاضر کر۔اگر وہ لکھنے کیلئے طاقت رکھتا ہے۔إِذَا مَا ابْتَلَاهُ اللهُ بِالْأَرْضِ سُخَطَةً بِلَائِلَ قَالُوا مُكْرَمٌ وَّ مُعَزِّرُ جب خدا نے بیزاری کے طور پر اُس کو زمین لائلپور میں دی۔تو مخالفوں نے کہا کہ اُس کی بڑی عزت ہے۔