القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 306

بِأَجْنِحَةِ الأَشْوَاقِ جِئْنَا فِنَاءَ كُمْ بِمَا قَدَّمَتْ مِنْكُمْ عَطَايَا فَنَحْضُرُ ہم شوق کے بازوؤں کے ساتھ تمہارے گھر آئے ہیں۔کیونکہ تمہارے احسان ہم پر ہیں اسلئے ہم حاضر ہوئے ہیں۔وَإِنْ كُنْتَ قَدْ سَاءَ تُكَ اَمْرُ خِلَافَتِي فَسَلُ مُرْسِلِى مَا سَاءَ قَلْبَكَ وَاحْصُرُ اور اگر تجھے میری خلافت بُری معلوم ہوئی ہے۔تو پھر میرے بھیجنے والے کو بہت اصرار سے پوچھ کہ کیوں ایسا کیا؟ اَتُنْكِرُنِي وَاللَّهُ نَوَّرَ دَعْوَتِى أَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مِثْلَ بَدْرٍ مُنَوَّرُ کیا تو میرا انکار کرتا ہے اور خدا نے میری دعوت کو روشن کیا ہے۔کیا تو ایسے شخص پر لعنت بھیجتا ہے کہ جو چاند کی طرح روشن ہے؟ يُصَدِّقُ أَمْرِى كُلُّ مَنْ كَانَ فِي السَّمَا فَمَا أَنْتَ يَا مِسْكِيْنُ إِنْ كُنْتَ تَكْفُرُ میری تصدیق تو تمام آسمان والے کرتے ہیں۔پس اے مسکین! تو کیا چیز ہے اگر انکار کرے۔وَإِنِّي قَتِيلُ الْحِبِّ فَاخْشَوْا قَتِيْلَهُ وَلَا تَحْسَبُوْنِي مِثْلَ نَعْشِ يُنَكَّرُ اور میں کشتہ دوست ہوں۔پس تم کشتیہ دوست سے ڈرو۔اور مجھے اس جنازہ کی طرح مت سمجھ لوجس کی ہیئت بدل دی گئی اور وہ شناخت نہ کیا جائے۔اَطُوفَ لِمَرْضَاتِ الْحَبِيبِ كَهَائِم وَأَسْعَى وَإِنَّى مُسْتَهَامٌ وَ مُغْبِرُ میں دوست کی رضا کیلئے ایک سرگشتہ کی طرح گھوم رہا ہوں۔اور میں دوڑ رہا ہوں اور اس میں سرگردان ہوں اور بہت دوڑنے سے غبار آلودہ ہوں۔اذَابَتْ مَحَبَّتُهُ عِظَامِي جَمِيعَهَا وَهَبَّتْ عَلَى نَفْسِي رِيَاحٌ تُكَسِّرُ اُس کی محبت نے میری ہڈیوں کو گلا دیا۔اور میرے نفس پر اُس کی تیز ہوا چلی جو توڑنے والی تھی۔ذَرُوا حِرْصَ تَفْتِيُشِي فَإِنِّي مُغَيَّبٌ غُبَارٌ عِظَامِي قَدْ سَفَتْهَا صَرَاصِرُ میری حقیقت شناسی کا خیال چھوڑ دو کہ میں تمہاری نظروں سے غائب ہوں۔اور میری ہڈیاں ایک ایسا غبار ہیں کہ جن کو تیز ہوائیں اڑا کر لے گئیں۔إِذَا مَا انْقَضَى وَقْتِي فَلَا وَقْتَ بَعْدَهُ لَدَيْنَا مَعِيْنٌ لَّا يُحَاكِيْهِ أَخَرُ جب میر اوقت گذر جائے گا تو بعد اُس کے کوئی وقت نہیں۔ہمارے پاس وہ صاف پانی ہے جو اس کی نظیر نہیں۔دُعَائِي حُسَامٌ لا يُؤَخَّرُوَقْعُهُ وَصَوْلِي عَلَى أَعْدَاءِ رَبِّي مُفَكِّرُ میری دعا ایک تلوار ہے جو کوئی اُس کے وار کو روک نہیں سکتا۔اور میر احملہ میرے خدا کے دشمنوں پر ایک سخت تلوار ہے۔