القصائد الاحمدیہ — Page 307
۳۰۷ وَإِنِّي أُبَلِّغُ عَنْ مَّلِيْكَى رِسَالَةً وَإِنِّى عَلَى الْحَقِّ الْمُنِيرِ وَنَيْرُ اور میں اپنے بادشاہ کا پیغام پہنچارہا ہوں۔اور روشن حق ہوں اور آفتاب ہوں۔تَصَدَّى لِنَصْرِ الدِّين فِي وَقْتِ عُسْرَةٍ نَذِيرٌ مِّنَ الرَّحْمَن فَالُانَ يُنْذِرُ دین کی مدد کے لئے خدا سے تنگی کے وقت ایک نذیر کھڑا ہوا، پس اب وہ ڈرا رہا ہے۔مَكِينُ أَمِينٌ مُقْبِلٌ عِندَرَبِّهِ مُخَلَّصُ دِينِ الْحَقِّ مِمَّا يُحَدِّرُ وہ خدا کے نزدیک مکین امین ہے۔اور دینِ حق کو آفات کمزور کرنے والی سے خلاص کرنے والا ہے۔وَمِنْ فِتَنِ يُخْشَى عَلَى الدِّيْنِ شَرُّهَا وَمِنْ مِّحَنٍ كَانَتْ كَصَخْرٍ تُكَسِّرُ اور نیز ایسے فتنوں سے خلاصی بخشتا ہے جس کا خوف تھا۔اور ایسی بلاؤں سے جو پتھر کی طرح توڑنے والی ہیں۔أرِي آيَةً عُظمى وَ جِئْتُ اَرُودُكُمْ فَهَلْ فَاتِكَ أَوْ ضَيْغَمِّ أَوْ أَغْبَرُ دیکھو! میں ایک عظیم نشان دکھلاتا ہوں۔اور تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔پس کیا کوئی دلیر ہے یا شیر ہے یا بھیڑیا ہے۔وَقَالَ ثَنَاءُ اللَّهِ لِي أَنْتَ كَاذِبٌ فَقُلْتُ لَكَ الْوَيْلَاتُ أَنْتَ سَتُحْسَرُ اور مجھے مولوی ثناء اللہ نے کہا کہ تو جھوٹا ہے۔میں نے کہا تیرے پر واویلا ہے تو عنقریب ننگا کیا جائیگا۔تَعَالَوْا جَمِيعًا وَّانْحِتُوا أَقْلَامَكُمْ وَاَمْلُوْا كَمِثْلِي أَوْ ذَرُونِي وَخَيْرُوا سب آجاؤ اور قلمیں طیار کرو۔میری مانند لکھو یا مجھے چھوڑ واور مجھے با اختیار سمجھ لو۔وَاَعْطَيْتُ آيَاتٍ فَلَا تَقْبَلُوْنَهَا فَلَا تَلْطَحُوا اَرْضِي وَ بِالْمَوْتِ طَهَّرُوا میں نے نشان دیئے اور تم ان کو قبول نہیں کرتے۔پس میری زمین کو کسی نجاست سے آلودہ مت کرو اور مرنے سے پاک کر دو۔وَخَيْرُ خِصَالِ الْمَرْءِ خَوْفٌ وَّ تَوْبَةٌ فَتُوْبُوا إِلَى اللَّهِ الْكَرِيمِ وَأَبْشِرُوا اور بہترین خصلت انسان کی خوف اور تو بہ ہے۔پس خدا کی طرف تو بہ کرو اور خوش ہو جاؤ۔سَيْمُنَا تَكَالِيْفَ التَّطَاوُلِ مِنْ عِدَا تَمَادَتْ لَيَالِي الْجَوْرِ يَا رَبِّيَ انْصُرُ ہم نے ظلم کی تکلیفیں دشمنوں سے اُٹھائیں۔اور ظلم کی راتیں لمبی ہو گئیں۔اے خدا ! مد دکر۔