القصائد الاحمدیہ — Page 302
۳۰۲ فَصَارُوا ارُوا بِمُدَّ لِلرِّمَاحٍ دَرِيَّةً وَيَعْلَمُهَا أَحْمَدُ عَلِيُّ الْمُدَبِّرُ پس میرے دوست مد میں نیزوں کے نشانے بن گئے اور اس بات کو احمد علی جو میر مجلس تھا، خوب جانتا تھا۔وَكَانَ ثَنَاءُ اللهِ فِى كُلِّ سَاعَةٍ يُأَجِّجُ نِيرَانَ الْفَسَادِ وَيُسْعِرُ اور ثناء اللہ ہر ایک گھڑی۔فساد کی آگ بھڑکا رہا تھا۔أَرَى مَنْطِقًا مَايَنُبَحُ الْكَلْبُ مِثْلَهُ وَفِي قَلْبِهِ كَانَ الْهَوَى يَتَزَخَّرُ ایسی باتیں کیں کہ ایک کتا اس طرح آواز نہیں نکالے گا۔اور اُس کے دل میں ہوا و ہوس جوش مار رہی تھی۔وَ إِنَّ لِسَانَ الْمَرْءِ مَالَمْ يَكُن لَّهُ أَصَاةٌ عَلَى عَوْرَاتِهِ هُوَ مُشْعِرُ اور انسان کی زبان جب تک اس کے ساتھ عقل نہ ہو اُس کے پوشیدہ عیبوں پر ایک دلیل ہے۔يُكَلَّمُ حَتَّى يَعْلَمَ النَّاسُ كُلُّهُمْ جَهُولٌ فَلَا يَدْرِى وَلَا يَتَبَصَّرُ ایسا انسان کلام کرتا ہے یہاں تک کہ سب لوگ جان لیتے ہیں۔کہ یہ جاہل آدمی ہے نہ عقل ہے نہ بصیرت۔وَلَوْلَا تَنَاءُ اللَّهِ مَازَالَ جَاهِلٌ يَشُكُ وَلَا يَدْرِي مَقَامِي وَيَحْصُرُ اور اگر ثناء اللہ نہ ہوتا تو ایک جاہل میرے بارے میں شک کرتا اور مجھے سوالوں سے تنگ کرتا۔فَهَذَا عَلَيْنَا مِنَّةٌ مِّنْ أَبِي الْوَفَا أَرى كُلَّ مَحْجُوبٍ ضِيَائِي فَنَشْكُرُ پس یہ مولوی ثناء اللہ کا ہم پر احسان ہے۔کہ ہر ایک غافل کو ہماری روشنی سے اطلاع دی۔سوہم اُس کا شکر کرتے ہیں۔أَرَى الْمَوْتَ يَعْتَامُ الْمُكَفِّرَ بَعْدَهُ بِمَاظَهَرَتْ آى السَّمَاءِ وَتَظْهَرُ اب کافر کہنے والا گو یا مر جائے گا۔کیونکہ ہمارے غلبہ سے خدا کا نشان ظاہر ہوا۔وَلَمَّا اعْتَدَى الْأَمْرَ تُسَرِى بِمَكَائِدٍ وَأَغْرَى عَلَى صَحْبِى لِتَامًا وَكَفَرُوا اور جب ثناء اللہ اپنے فریبوں سے حد سے گذر گیا۔اور لوگوں کو میرے دوستوں پر برانگیختہ کیا فَقَالُوا لِيُوْسُفَ مَانَرَى الْخَيْرَهَهُنَا وَلَكِنَّهُ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ يَحْذَرُ پس انہوں نے منشی محمد یوسف کو کہا کہ اس قسم کی بحث اور میں منٹ مقرر کرنے میں ہمیں خیر نظر نہیں آتی مگر وہ اپنی قوم سے ڈرتا تھا۔