القصائد الاحمدیہ — Page 301
كَأَنَّ مَقَامَ الْبَحْثِ كَانَ كَاجُمَةٍ بِهِ الذُّتُبُ يَعْوِي وَالغَضَفَرُ يَزْءَ رُ گو یا مقام بحث ایک ایسے بن کی طرح تھا۔جس میں ایک طرف بھیڑ یا چیختا تھا اور ایک طرف شیر غزا تا تھا۔وَقَامَ تَنَاءُ اللهِ يُغْوِى جُنُودَهُ وَيُغْوِى عَلَى صَحْبِى لِتَامًا وَّ يَهْذُرُ اور کھڑا ہواثناء اللہ اپنی جماعت کو اغوا کر رہا تھا۔اور میرے دوستوں پر برانگیختہ کرتا تھا۔وَكَانَ طَوَى كَشْحًا عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ وَمَارَادَ نَهْجَ الْحَقِّ بَلْ كَانَ يَهْجُرُ اور اُس نے کینہ کو اپنے دل میں ٹھان لیا۔اور حق جوئی نہ کی بلکہ بکواس کرتا رہا۔سَعَى سَعْيَ فَتَانِ لِتَكْذِيبِ دَعْوَتِي وَكَانَ يُدَرِّي مَا تَجَلَّى وَيَمْكُرُ اس نے فتنہ انگیز آدمی کی طرح میری دعوت کی تکذیب کی کوشش کی۔اور وہ حق پوشی کر رہا تھا اور مکر کر رہا تھا۔وَأَظْهَرَ مَكْرًا سَوَّلَتْ نَفْسُهُ لَهُ وَلَمْ يَرْضَ طُوْلَ الْبَحْثِ فَالْقَوْمُ سُجِّرُوا اور ایک مکر اُس نے ظاہر کیا جو اُس کے دل میں پیدا ہوا۔اور لمبی بحث سے انکار کیا اور قوم اُس کے فریب میں آگئی۔- فَشَقَّ عَلَى صَحْبِى طَرِيقٌ اَرَادَهُ وَقَدْظُنَّ أَنَّ الْحَقَّ يُخْفى وَيُسْتَرُ پس میرے دوستوں پر وہ طریق گراں گذرا جس کا اُس نے ارادہ کیا۔اور انہوں نے گمان کیا کہ اس سے حق پوشیدہ رہ جائے گا۔رَءَ وَا بُرْجَ بُهْتَانِ تُشَادُ وَتُعْمَرُ فَقَالُوا لَحَاكَ اللهُ كَيْفَ تَزَوِّرُ انہوں نے بہتان کا قلعہ دیکھا جو بنایا جاتا تھا۔پس انہوں نے کہا خدا کی ملامت تجھ پر تو کیسا جھوٹ بول رہا ہے۔أَقَلُّ زَمَانِ الْبَحْثِ مِقْدَارُ سَاعَةٍ فَلَمْ يَقْبَلِ الْحَمْقَى وَصَحْبِى تَنفَّرُوا کم سے کم بحث کا زمانہ ایک ساعت چاہیئے۔پس احمقوں نے قبول نہ کیا اور میرے دوست اس مقدار سے متنفر ہوئے۔رَضُوا بَعْدَ تَكْرَارٍ وَّ بَحْثٍ بِقُلْتِهَا وَفِي الصَّدْرِ حُزَّازُ وَفِي الْقَلْبِ خَنْجَرُ آخر اس بات پر کسی قدر تکرار اور بحث کے بعد راضی ہو گئے کہ ہیں میں منٹ تک بحث ہو اور سینہ میں سوزش غضب تھی اور دل میں خنجر تھا۔دَفَاهُمْ عَمَايَاتُ الْأَنَاسِ وَحُمْقُهُمْ رَأَوْا مُدَّ قَوْمٌ وَالْمُدَى قَدْ شَهَّرُوا قوم کی جہالتوں نے اُن کوختہ کر دیا۔موضع مذ کو انہوں نے ایسی صورت میں دیکھا جو پھر یاں نکالی ہوئی ہیں۔