القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 300

وَارْضَى اللَّقَامَ إِذْ دَنَا مِنْ أَرْضِهِمْ عَلَى النَّارِ مَشَاهُمْ وَقَدْ كَانَ يَبْطَرُ اور لوگوں کو خوش کیا جب ان کی زمین سے نزدیک ہوا۔ان لوگوں کو آگ پر چلایا اور بہت خوش ہوا۔تَكَلَّمَ كَالًا جُلَافِ مِنْ غَيْرِ فِطْنَةٍ وَيَأْتِيْكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ كَانَ يَنْظُرُ اُس نے کمینوں کی طرح بغیر دانائی کے کلام کیا۔اور دیکھنے والوں سے تو خودسُن لے گا۔وَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ فَسَلُ يَا مُكَذِّبِي دَهَا قِينَ مُدَّ وَالْحَقِيقَةُ أَظْهَرُ اور اگر تجھے شک ہے۔تو مد کے زمینداروں سے پوچھ لے۔فَلَمَّا الْتَقَى الْجَمْعَانِ لِلْبَحْثِ وَالْوَغَا وَنُودِيَ بَيْنَ النَّاسِ وَالْخَلْقُ أَحْضِرُوا پس جب دونوں فریق بحث کیلئے جمع ہو گئے۔اور لوگوں میں منادی کرائی گئی اور لوگ حاضر ہو گئے۔وَأَوْجَسَ خِيْفَةَ شَرِّهِ بَعْضُ رُفْقَتِى لِمَا عَرَفُوا مِنْ خُبُثِ قَوْمٍ تَنَمَّرُوا اور پوشیدہ طور پر میرے بعض رفیقوں کے دلوں میں خوف ہوا۔کیونکہ قوم کی درندگی انہوں نے معلوم کر لی تھی۔فَأُنْزِلَ مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ سَكِينَةٌ عَلَى صُحْبَتِي وَاللَّهُ قَدْ كَانَ يَنْصُرُ پس میرے اصحاب پر آسمان سے تسلی نازل کی گئی۔اور خدا مد دکر رہا تھا۔وَأَعْطَاهُمُ الرَّحْمَنُ مِنْ قُوَّةِ الْوَغَى وَأَيَّدَهُمْ رُوْحٌ أَمِينٌ فَابْشَرُوا اور خدا نے ان کو قوت لڑائی کی دے دی۔اور رُوح القدس نے ان کو مدد دی۔پس وہ خوش ہو گئے۔وَكَانَ جِدَالٌ يَطْرُدُ الْقَوْمَ بِالضُّحَى إِلى خِطَّةٍ أَوْمَى إِلَيْهَا الْمَعْشَرُ اور لوگ قریب آٹھ بجے کے بحث دیکھنے لیئے روانہ ہوئے۔اُس تکلیہ کی طرف جس کی طرف گروہ نے اشارہ کیا تھا۔تَحَرَّوْا لِهَذَا الْبَحْثِ أَرْضًا شَجِيرَةً إِلَى الْجَانِبِ الْغَرْبِيِّ وَالْجُندُ جُمِّرُوا اور بحث کیلئے ایک زمین اختیار کی گئ جس میں کئی ایک درخت تھے۔اوروہ جگہ گاؤںسے باہر غربی طرف تھی اور ہمارے دوست و ہاں ٹھہرائے گئے۔وَكَانَ ثَنَاءُ اللَّهِ مَقْبُولُ قَوْمِهِ وَمِنَّا تَصَدَّى لِلتَخَاصُمِ سَرْوَرُ اور ثناء اللہ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے۔ایڈیشن اول میں سہو کتابت سے ایک درخت تھا لکھا گیا ہے۔(ناشر)