القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 21

۲۱ وَ مِنْ عَجَبٍ أُشَرِفُكُمْ وَاَدْعُو وَمِنْكَ الْمَشْرَفِيَّةُ وَالرِّمَاحُ اور یہ عجیب بات ہے کہ میں تمہاری عزت کرتا ہوں اور تمہیں دعوت دیتا ہوں اور تیری طرف سے تلوار میں اور نیزے دکھائے جاتے ) ہیں۔وَبَلْدَتُكُمْ حَدِيقَةُ كُلَّ خَيْرٍ فَمِنْكُمْ سَيِّدِي يُرجَى الصَّلَاحُ اور تمہارا شہر (بغداد) تو ہر خیر کا باغیچہ ہے۔اے جناب ! تم سے تو بہتری کی امید کی جاتی ہے۔كَمِثْلِكَ سَيِّدٌ يُؤذِينِ عَجَبٌ وَفِي بَغُدَادَ خَيْرَاتٌ كِفَاحُ تیرے جیسا سردار مجھے ایذا دے تو تعجب ہے حالانکہ بغداد میں جوق در جوق بھلائیاں موجود ہیں۔أَرى يَاحِتٍ تَذْكُرُنِي بِسَبٍ فَمَا هَذَا ؟ وَسِيْرَتُكُمْ سَمَاحُ اے میرے دوست ! میں دیکھتا ہوں کہ تو مجھے گالیوں سے یاد کرتا ہے۔یہ کیسا خلق ہے حالانکہ تمہاری سیرت تو درگذر کرنے کی ہے۔أَخَذْنَا كُلَّ مَا أَعْطَيْتَ تُحَفًا وَصَافَيْنَا وَ زَادَ الْإِنْشِرَاحُ جو کچھ تو نے دیا اسے ہم نے تحفے کے طور پر لے لیا ہے اور ہم نے دوستی کرنا چاہی اور انشراح صدر بڑھ گیا۔فَخُذُ مِنِّى جَوَابِيْ كَالْهَدَايَا وَلَكِنْ كَانَ مِنْكَ الْافْتِتَاحُ سولے مجھ سے میرا جواب تحفوں کے طور پر ہی۔لیکن ابتدا تیری طرف سے ہی ہوئی ہے۔إِذَا اعْتَلَقَتْ أَظَافِيرِئَ بِخَصْمٍ فَمَرْجِعُهُ نَكَالٌ أَوْطَلَاحُ جب میرے ناخن کسی دشمن کے جسم میں گڑ جاتے ہیں تو اس کا انجام عبرت ناک سزا اور خرابی ہوتا ہے۔وَ إِنْ وَّافَيْتَنِي حُبًّا وَسِلْمًا فَلِلزُّوَّارِ بُشْرَى وَ النَّجَاحُ اور اگر تو محبت اور صلح سے میرے پاس آئے تو زائرین کے لئے بشارت اور کامیابی ہے۔وَ اِنْ لَّمْ تَقْرُبَنْ أَنْهَارَ مَاءٍ فَلَا تُعْطِيكَ مِنْ مَّاءٍ رِيَاحُ اور اگر تو پانی کی نہروں کے قریب نہ جائے تو ہوا ئیں تجھے کچھ بھی پانی نہیں دیں گی۔وَ رَشْحُ الصَّلْدِ سَهُلْ عِنْدَجُهْدٍ وَيُوْبِقُكُمْ قَعُودٌ وَ انْسِطَاحُ اور کوشش کرنے پر چٹان کا ٹپک پڑنا تو آسان ہے اور کم ہمتی اور زمین سے لگے رہنا تمہیں ہلاک کر رہا ہے۔