القصائد الاحمدیہ — Page 294
۲۹۴ وَقَدْ زَاحَمُوا فِي كُلِّ أَمْرٍ أَرَدْتُهُ فَأَيَّدَنِي رَبِّي فَفَرُّوا وَادْبَرُوا اور انہوں نے ہر کام میں جس کا میں نے ارادہ کیا مزاحمت کی تو میرے رب نے میری تائید کی۔سو وہ بھاگ گئے اور پیٹھ پھیر گئے۔وَكَيْفَ عَصَوْا وَاللَّهِ لَمْ يُدْرَ سِرُّهَا وَكَانَ سَنَا صِدْقِي مِنَ الشَّمْس أَظْهَرُ اللہ کی قسم! اس کا بھید سمجھ نہیں آیا کہ انہوں نے کیسے نافرمانی کی حالانکہ میری سچائی کی روشنی سورج سے بھی زیادہ واضح تھی۔لَزِمُتُ اصْطِبَارًا عِنْدَ جَوْرِ لِتَامِهِمْ وَكَانَ الْأَقَارِبُ كَالْعَقَارِبِ تَأْبُرُ ان میں سے کمینوں کے ظلم کے وقت میں نے صبر اختیار کر لیا اور میرے قریبی رشتہ دار بھی بچھوؤں کی طرح ڈنگ ماررہے تھے۔وَ هَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ إِحْدَى الْمَصَائِبِ يُكَذَّبُ مِثْلِى بِالْهَوَى وَيُكَفَّرُ اور اسلام پر مجملہ مصائب کے یہ بھی ایک مصیبت ہے کہ میرے جیسے آدمی کی تکذیب اور تکفیر نفس پرستی سے کی جارہی ہے۔فَأَقْسَمْتُ بِاللهِ الَّذِي جَلَّ شَانُهُ عَلَى أَنَّهُ يُخْزِي الْعِدَا وَ أُعَزَّرُ اور میں نے اللہ کی قسم کھائی ہے جس کی شان بلند ہے اس بات پر کہ وہ دشمنوں کو رسوا کرے گا اور مجھے عظمت دی جائے گی۔وَلِلْغَيِّ أَثَارٌ وَّ لِلرُّشْدِ مِثْلُهَا فَقُومُوا لِتَفْتِيشِ الْعَلَامَاتِ وَانْظُرُوا اور گمراہی کی کچھ علامات ہیں اور ہدایت کی بھی اسی کی طرح کچھ علامات ہیں۔سو تم علامات کی تلاش کے لئے اٹھو اور غور کرو۔تَظُنُّونَ أَنِّي قَدْ تَقَوَّلُتُ عَامِدًا بِمَكْرٍ وَبَعْضُ الظَّنِّ إِثْمٌ وَ مُنْكَرُ تم یہ گمان کر رہے ہو کہ میں نے مکر سے عمد جھوٹا قول باندھ لیا ہے حالانکہ بعض گمان گناہ اور مکروہ ہوتے ہیں۔وَكَيْفَ وَإِنَّ اللهَ أَبْدَى بَرَائِتِــــى وَجَاءَ بِايَاتٍ تَلُوحُ وَتَظْهَرُ اور یہ کیونکر ہو سکتا ہے جب کہ خدا نے میری براءت ظاہر کر دی ہے اور وہ ایسے نشان لے آیا ہے جو نمایاں اور ظاہر ہورہے ہیں۔وَيَأْتِيكَ وَعْدُ اللَّهِ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَى فَتَعْرِفُهُ عَيْنٌ تُحَدُّ وَ تُبْصِرُ اور تیرے پاس خدا کا وعدہ اس طرح آجائے گا کہ تو دیکھ نہیں رہا ہوگا۔سواس کو ہی آنکھ پہچانے گی جو تیز ہوتی ہے اور خوب دیکھتی ہے۔وَلَيْسَ لِعَضْبِ الْحَقِّ فِي الدَّهْرِ كَاسِرٌ وَمَنْ قَامَ لِلتَّكْسِيرِ بُخْلًا فَيُكْسَرُ اور حق کی تلوار کو زمانے میں کوئی توڑنے والا نہیں اور جو بخل سے توڑنے کے لئے کھڑا ہو گا وہ خود توڑ دیا جائے گا۔