القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 295

۲۹۵ وَمَنْ ذَا يُعَادِينِي وَرَبِّى يُحِبُّنِي وَمَنْ ذَايُرَادِيُنِي إِذَا اللَّهُ يَنْصُرُ اور کون ہے جو مجھ سے دشمنی کرے جب کہ میرا رب مجھ سے محبت کر رہا ہے۔اور کون مجھے ہلاک کر سکتا ہے جب کہ اللہ مجھے دے رہا ہے۔وَ يَعْلَمُ رَبِّي سِرَّ قَلْبِي وَسِرَّهُمْ وَكُلُّ خَفِي عِنْدَهُ مُتَحَفِّرُ اور میرا رب میرے دل کے بھید اور ان کے بھید کو جانتا ہے اور ہر پوشیدہ چیز اس کے پاس حاضر ہے۔وَلَوْ كُنتُ مَرْدُودَ الْمَلِيْكِ لَضَرَّنِى عَدَاوَهُ قَوْمٍ كَذَّبُونِي وَ حَقَّرُوا اور اگر میں خدا کی طرف سے جو میرا مالک ہے مردود ہوتا تو تکذیب کرنے والی اور حقیر قرار دینے والی قوم کی عداوت مجھے ضرور نقصان پہنچاتی۔وَلَكِنَّنِي صَافَيْتُ رَبِّي فَجَاءَ نِي مِنَ اللهِ أَيَاتٌ كَمَا أَنْتَ تَنْظُرُ لیکن میں نے اپنے رب سے خالص دوستی کی تو اللہ کی طرف سے کچھ نشانات جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے میرے پاس آگئے۔وَمَا كَانَ جَوْرُ الْخَلْقِ مُسْتَحَدَثَ لَنَا فَإِنَّ أَذَاهُمُ سُنَّةٌ لَّا تُغَيَّرُ اور مخلوق کا ظلم ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ ان کا دکھ دینا ایک غیر متبدل سنت ہے۔إِذَا قِيْلَ إِنَّكَ مُرْسَلٌ خِلْتُ أَنَّنِى دُعِيْتُ إِلَى أَمْرٍ عَلَى الْخَلْقِ يَعْسِرُ جب مجھے کہا گیا کہ تو مرسل ہے تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک ایسے امر کی طرف بلایا گیا ہوں جو مخلوق پر دشوار گذرے گا۔اَمُكْفِرِ! مَهْلًا بَعْضَ هَذَا التَّحَكُم وَخَفْ قَهُرَ رَبِّ قَالَ لَا تَقْفُ فَاحْذَرُ اے میرے مکھر ! اس زبر دستی کرنے سے کسی قدر باز آجا اور اس خدا سے ڈر جس نے ”لا تقف “ کہا ہے سو احتیاط کر۔وَإِذْ قُلْتُ إِنِّي مُسْلِمٌ قُلْتَ كَافِرٌ فَأَيْنَ التَّقَى يَا أَيُّهَا الْمُتَهَوِّرُ جب میں نے کہا میں مسلمان ہوں تو نے کہا کہ کا فر ہے پس تقویٰ کہاں گیا اے بے جاد لیری کرنے والے! وَإِنْ كُنْتَ لَا تَخْشَى فَقُلْ لَّسْتَ مُؤمِنًا وَيَأْتِي زَمَانٌ تُسْتَلَنَّ وَتُخْبَرُ اور اگر تو ڈرتا نہیں تو تو کہتارہ کہ تو مومن نہیں اور وہ زمانہ آرہا ہے کہ تو پوچھا جائے گا اور تجھے مطلع کیا جائے گا۔وَإِنِّي تَرَكْتُ النَّفْسَ وَالْخَلْقَ وَالْهَوَى فَلَا السَّبُّ يُؤْذِينِي وَلَا الْمَدْحُ يُبْطِرُ اور میں نے نفس مخلوق اور خواہشِ نفس کو ترک کر دیا ہے سو اب نہ گالی مجھے ایذا دیتی ہے اور نہ مدح فخر دلاتی ہے۔