القصائد الاحمدیہ — Page 291
۲۹۱ ۴۸ الْقَصِيدَةُ لِكُلِّ قَرِيْحَةٍ سَعِيدَةٍ ہر سعید فطرت کے لئے ایک قصیدہ أَرى سَيْلَ أَفَاتٍ قَضَاهَا الْمُقَدِّرُ وَفِي الْخَلْقِ سَيِّئَاتٌ تُدَاعُ وَ تُنْشَرُ میں ان آفات کے سیلاب کو دیکھ رہا ہوں جن کو تقدیر جاری کرنے والے خدا نے مقدر کیا ہے اور مخلوق میں ایسی برائیاں ( موجود ) ہیں جو پھیلائی اور نشر کی جارہی ہیں۔وَفِي كُلِّ طَرْفِ نَارُ شَرِّ تَأَجَّجَتْ وَفِي كُلِّ قَلْبٍ قَدْ تَرَاكَ التَّحَجُرُ اور ہر طرف آتشِ فساد و شر بھڑک اُٹھی ہے اور ہر ایک دل میں قساوت ظاہر ہوگئی ہے۔وَقَدْ زُلْزِلَتْ مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ دَوْحَةٌ تُظِلُّ بِظِلُّ ذِي شِفَاءٍ وَتُحْمِرُ اور اس ہوا سے وہ درخت ہل گیا ہے جو شفا اور سایہ دینے والا اور ثمر دار تھا۔ارى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں دیکھتا ہوں کہ ہر غافل اپنی دنیا کے لئے رورہا ہے۔پس کون ہے جو دین کے لئے روئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔وَلِلدِّينِ أَطْلَالٌ اَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے کھنڈرات ہو چکے ہیں جنہیں میں غم زدہ کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے آنسو اس کے محلات کی یادمیں بہہ رہے ہیں۔تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ مُّحِيْحَةٍ وَاَرْحَى سَدِيلَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَدِّرُ بیخ کنی کرنے والی ہوا کی طرح گمراہیاں ظاہر ہوگئی ہیں اور اندھیری رات نے ضلالت کا پردہ لٹکا دیا ہے۔اَرى ظُلُمَاتٍ أَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَهَا وَذُقْتُ كُنُوسَ الْمَوْتِ اَوْ كُنْتُ أَنْصَرُ میں تاریکیاں دیکھتا ہوں۔کاش میں ان سے پہلے ہی مرجاتا اور موت کے پیالے چکھ لیتا یا پھر میں نصرت دیا جاتا۔