القصائد الاحمدیہ — Page 280
۲۸۰ وَوَاللَّهِ إِنِّي مُؤْمِنٌ وَمُحِبُّهُ أَأَنتَ عَلَيْنَا بَابَ ذِي الْمَجْدِ تُغْلِقِ اور بخدا میں مومن اور محبت خدا ہوں کیا تو ہم پر خدا تعالیٰ کا دروازہ بند کرتا ہے۔وَتَذْكُرُنِي كَالْمُفْسِدِينَ مُحَقِّرًا تَقُولُ فَقِيرٌ مُفْلِسٌ بَلْ كَمُدْحَقِ اور مجھے تحقیر سے تو یادکرتا ہے اور کہتا ہے ایک محتاج مفلس بلکہ ایسے آدمی کی طرح ہے جو بالکل بے نصیب ہو۔اَ تَفْخَرُ يَا مِسْكِينُ ! مِنْ قِلَّةِ النُّهَى بِمَالٍ وَأَوْلَادٍ وَّجَاهِ وَنُسْتَقِ ائے مسکین ! کیا کم عقلی کی وجہ سے مال اور اولا داور مرتبہ او نوکر چاکروں سے فخر کرتا ہے۔وَمَا الْفَخْرُ إِلا بِالتَّقَاةِ وَبِالْهُدَى وَلَا مَالَ فِي الدُّنْيَا كَقَلْبٍ يَتَّقِى اور فخر محض پر ہیز گاری کے ساتھ ہے اور دنیا میں کوئی مال پر ہیز گار دل کی طرح نہیں۔تَسُبُّ وَقَدْ شَاهَدتَ صِدْقِي وَأيَتِى وَإِنَّ الْفَتَى بَعْدَ الْبَصِيرَةِ يَعْتَقِى تو مجھے گالی دیتا ہے اور میر ا صدق اور میری شان دیکھ چکا ہے اور مرد آدمی بصیرت کے بعد بد گوئی سے ٹھہر جاتا ہے۔عَلى رَأْسِ مِائَةٍ بُعِثَ رَجُلٌ مُجَدِّدٌ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا كَقَوْلٍ مُلَفِّقِ صدی کے سر پر ایک مجدد یا یہ حدیث صحیح ہے کوئی بناوٹی کا قول نہیں۔اَ تَعُزُرُ إِلَيَّ الْإِفْتِرَاءَ خَبَاثَةً وَقَدْ عَصَمَنِي رَبُّ الْوَرَى مِنْ تَخَلُّقِ کیا میری طرف خباثت سے افتراء کی تہمت کرتا ہے اور خدا نے مجھے جھوٹ بونے سے بچایا ہوا ہے۔نَشَأْتُ أُحِبُّ الصَّدَقَ طِفْلًا وَيَافِعًا وَكَهْلًا وَلَوْ مُزِّقْتُ كُلَّ الْمُمَزَّقِ میں بچپن سے جوانی اور کہولت کے زمانہ تک سچائی سے دوستی رکھتا ہوں اگر چھ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاؤں۔شَرِبُنَا زُلَالًا لَا يُكَدَّرُ صَفَوُهُ وَذُقْنَا شَرَابًا مُحْيِبًا مِنْ تَذَوُّقِ ہم نے وہ پانی پیا ہے جس کی صفائی مکدر نہیں ہوتی اور ہم نے وہ شربت پیا جو وقتا فوقتا پینے سے زندہ کر دیتا ہے۔عَجِبْتُ لِعَقْلِكَ يَا أَسِيرَ ضَلَالَةٍ تَرَكْتَ نَمِيرَ الْمَاءِ مِنْ حُبِّ غَلْفَقِ تیری عقل پر اسے گرفتار ضلالت ! تعجب ہے۔تو نے اچھا پانی کائی کی خواہش سے ترک کر دیا۔