القصائد الاحمدیہ — Page 279
۲۷۹ فَتُرْجَمُ يَا إِبْلِيسُ ثُمَّ بِحَرُبَةٍ تُمَزَّقَ تَمْزِيْقًا كَشَوُبِ مُشَبُرَقٍ پس اے ابلیس! تو سنگسار کیا جائیگا اور پھر ایک حربے کیساتھ پتلے کپڑے کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔وَرِثْتَ لِتَامًا قَدْ خَلَوْا قَبْلَ وَقْتِكُمُ تَشَابَهَتِ الأَطْوَارُ يَا يُّهَا الشَّقِى تو ان لٹیموں کا وارث ہو گیا جو تمہارے پہلے گزر گئے۔اے شقی تمہارے طور اُن سے مشابہ ہو گئے۔وَسَاءَ تُكَ مَا قُلْنَا فَعَيْنُكَ قَدْ عَمَتْ كَمِثْلِ خَفَافِيْشَ إِذَا الشَّمْسُ تُشْرِقِ اور تجھے ہماری بات بُری معلوم ہوئی اور تو اندھا ہو گیا ان شہروں کی طرح جو سورج کے چمکنے کے وقت اندھی ہو جاتی ہیں۔وَمَنْ لَمْ يَكُنْ فِي دِينِهِ ذَا بَصِيرَةٍ يَكُنْ أَمْـرُهُ تَكْذِيبُ أَمْرٍ مُحَقَّقِ اور جو شخص اپنے دین میں بصیرت نہ رکھتا ہو محققوں کی تکذیب اس کی عادت ہوگئی۔قَفَوْتُمْ أُمُورًا لَمْ يَكُنْ عِلْمُهَا لَكُمْ فَإِنِّى عَلَيْكُمْ يَـاعِـذَا الْحَقِّ أُشْفِقِ تم ان امور کے پیرو ہو گئے جن کا تمہیں علم نہ تھا اور میں اے دشمنان حق ! تمہاری حالت پر ہراساں ہوں۔وَتُنْكِرُ مَا أَبْدَى الْمُهَيْمِنُ عِزَّتِى وَلَا تَنْتَهِي بَلْ كَالْمَجَانِيْنَ تَشْمَقِ اور خدا نے جو ہماری عزت ظاہر کی اس سے تو انکار کرتا ہے اور باز نہیں آتا بلکہ دیوانوں کی طرح خوش ہوتا ہے۔وَبَوْنٌ بَعِيدٌ بَيْنَ شَلْقٍ وَقَرُشِنَا فَنَبْلَعُكُمْ كَالْقَرْشِ يَا أَهْلَ عَمْلَقِ اور چھوٹی مچھلی اور ہماری بڑی مچھلی میں بڑا فرق ہے پس ہم تمہیں بڑی مچھلی کی طرح نگل لیں گے۔اے ظالمو! وَنَحْنُ بِحَمْدِ اللَّهِ نِلْنَا مَدَارِجًا وَصِرْتُمْ كَمَيْتٍ أَوْ كَخُشُبٍ مُدَهْدَقِ اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے مدارج تک پہنچ گئے اور تم مردہ کی طرح ہو گئے یا ٹوٹی ہوئی لکڑی کی طرح۔اَحَاطَتَ بِنَا الْأَنْوَارُ مِنْ كُلِّ جَانِبِ وَمِنْ أَفْقِنَا شَمْسُ الْمَحَاسِنِ تُشْرِقِ ہر ایک طرف سے ہمیں نور محیط ہو گئے ہیں اور ہمارے افق سے آفتاب محاسن طلوع کرتا ہے۔وَيَنْمُو مِنَ الرَّحْمَنِ حَقٌّ مُطَهَّرٌ وَمَا كَانَ مِنْ غُولٍ فَيُفْنَى وَيُمْحَقُ اور خدا کی بات نشو و نما پاتی ہے اور جو شیطان کی طرف سے ہو وہ فنا ہو جاتا ہے اور نقصان پذیر ہو جاتا ہے۔