القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 278

۲۷۸ فَلَمَّا آتَاهُ الرُّشْدُ مِنْ وَاهِبِ الْهُدَى أَتَانِي وَبَايَعَنِي بِقَلْبٍ مُصَدِّقِ پس جبکہ اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پہنچی میرے پاس آیا اور دل کی تصدیق سے بیعت کی۔رَأَيْتُ أَوْلِي الْأَبْصَارِ لَا يُنْكِرُونَنِي وَيُنْكِرُ شَأْنِي جَاهِلٌ مُتَحَرِّقِ میں نے دانشمندوں کو دیکھا ہے کہ میرا انکار نہیں کرتے اور جو جاہل اور بخیل ہو وہ میری شان سے انکار کرتا ہے۔لَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا فَمَنْ يُرِيْهِمْ إِذَا فَقَدُوا عُيُونَ التَّأَنَّقِ نکے واسطے آنکھیں ہیں جن سے وہ نہیں دیکھتے پس اُن کو کون دکھا وے جب وہ اچھی باتوں کے دیکھنے کی آنکھ نہیں رکھتے۔اَلَا أَيُّهَا الْغَالِي إِلَامَ تُفَسِّقُ فَدُونَكَ نُصْحِي وَاتَّقِ اللَّهَ وَارْفَقِ اے غلو کرنے والے ! تو کب تک گالیاں دے گا۔پس میری نصیحت قبول کر اور خدا سے ڈر اور نرمی کر۔وَمَا جِتُكُمْ مِنْ غَيْرِي وَحُجَّةِ وَقَدْ أَشْرَقَتْ أَيْتُ رَبِّي وَ تُشْرِقُ اور میں بغیر نشانوں کے تمہارے پاس نہیں آیا اور میرے رب کے نشان چکے ہیں اور بعد اس کے چمکیں گے۔فَمَا وَقَعَ مِنْهَا خُذْ كَمَنْ يَطْلُبُ الْهُدَى وَمَا لَمْ يَقَعُ فَا تُرُكُ هَوَاكَ وَرَتِّقِ پس جو کچھ آسمیں سے واقع ہو گیا اسکوطالب ہدایت کی طرح لے لے اور جو واقع نہیں ہوا اس کے لینے کا منتظر رہ۔رَأَيْتُ كَثِيرًا مِنْ لِسَامٍ وَّاِنَّنِى كَمِثْلِكَ مَا آنَسْتُ رَجُلًا زَبَعْبَقِ میں نے بہت لیکم دیکھے مگر میں نے تیرے جیسا بد ھو کوئی نہ دیکھا۔تَسَسَّرَ لُبُكَ تَحْتَ كِبْرٍ وَّنَخْوَةٍ كَلْبٌ عَفَا فِي بَطْنِ جَوْزِ مُرَصَّقِ تیری عقل تکبر اور نخوت کے نیچے چھپ گئی اس مغز اخروٹ کی طرح جو تنگ اور سخت چھلکے والے اخروٹ میں چھپ گیا ہو۔اَرَاكَ كَفَدَّ ان تَخَاذَلَ رِجُلُهُ فَلَا بُدَّ مِنْ رَجُلٍ يَسُوقُ وَيَزْعَقِ میں تجھے اس بیل کی طرح دیکھتا ہوں جو چلنے میں ستی کرتا ہے پس ایسے آدمی کا ہوناضروری ہے کہ ہانکے اور بلند آواز سے زجر کرے۔وَمَا أَنْتَ إِلا كَالْعَصَافِيرِ ذِلَّةً وَتَحْسِبُ نَفْسَكَ مِنْ عَمَاءٍ كَسَوْذَقِ اور تو کچھ نہیں مگر ایک چڑیا ہے اور نا بینائی سے اپنے تئیں ایک شاہین سمجھتا ہے۔