القصائد الاحمدیہ — Page 277
۲۷۷ وَأُعْطِيتُ فِي سُبُلِ الْكَلَامِ قَرِيْحَةً كَحَوْجَاءِ * مِرْقَالٍ تَرُجُ وَتَدْبَقِ اور کلام کی راہوں میں ایسی طبیعت دیا گیا ہوں جو اس اونٹنی لاغر کی طرح ہے جو جلد اور ہر ایک اونٹنی پر مقدم رہتی ہے۔وَنَزَّهَهَا الرَّحْمَنُ عَنْ كُلِّ اَبْلَةٍ وَصُيِّرَ غَيْرِى كَالحَقِيرِ الْحَبَلَّقِ اور خدا نے کلموں کو ہر ایک نقصان سے منزہ کیا اور میرا غیر حقیر کو نہ قد کی طرح کیا گیا۔عَلَوْنَا ذُرى قُنَنِ الْكَلَامِ وَقَوْلُنَا زُلَالٌ نَمِيرٌ لَا كَمَاءٍ مُرَنَّقِ ہم کلام کی پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے اور اور ہمارا قول آب خوش اور صافی ہے اور میلا کچیلا نہیں۔فَلَوْ جَاءَنَا بِالرُّمَرِ سَحْبَانُ وَائِلٍ لَفَرَّ مِنَ الْمَيْدَانِ خَوْفًا كَخِرْنَقِ پس اگر اپنے گروہ کیساتھ محبان وائل بھی ہمارے پاس آئے تو وہ ڈر کر خرگوش کی طرح میدان سے بھاگ جائے۔وَفَاضَتْ عَلَى شَفَتِى مِنَ اللهِ رَحْمَةٌ فَقَوْلِى وَنُطْقِى آيَةٌ لِلْمُحَقِّقِ اور خدا کی طرف سے میرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ہے پس میر اقول اور نطق محقق کے لئے ایک نشان ہے۔وَكَلِمٍ كَسِمُطَى لُؤْلُؤِ قَدْ نَظَمُتُهَا وَجُمَلٍ كَافْنَانِ الْعُذَيْقِ الْأَسْمَقِ اور کلے موتیوں کی طرح ہیں جن کو میں نے منظوم کیا ہے جملے لطیف جو کھجور کی شاخوں کی طرح ہیں وہ کھجور جو بہت لمبی چلی گئی إِذَا مَا عَرَضْنَا قَوْلَنَا كَالْمُنَاضِلِ كَمَيْتٍ سَقَطْتُمْ أَوْ كَشَوْبٍ مُخَرَّقِ جب ہم نے لڑنے والے کی طرح اپنا سخن پیش کیا پس تم مردہ کی طرح یا پھٹے ہوئے کپڑے کی طرح گر گئے۔فَمَا كَانَ يَوْمُ الْجَمْعِ إِلَّا لِذُلُّكُمْ لِيُبْدِيَ رَبِّي شَأْنَ رَجُلٍ مُوَفَّقِ پس جلسہ ہدایت کا دن ایسی غرض سے تھا کہ تمہاری ذلت ظاہر ہو اور تا خدا تعالیٰ توفیق یافتہ انسان کی شان ظاہر کرے۔ابَادَكُمُ الرَّحْمنُ خِزْيَّا وَذِلَّةٌ وَأَيَّدَنِي فَضْلًا فَفَجِّرُ وَعَمَقٍ خدا نے تم لوگوں کو ذلت کی مار سے مارد یا اور اپنے فضل سے میری تائید کی پس سوچ اور خوب سوچ۔ا لَا رُبَّ خَصْمٍ كَانَ الْوَى كَمِثْلِكُمْ مُصِرًّا عَلَى تَكْفِيْرِهِ غَيْرَ مُعْتَقِى خبر دار ہو! بہت سے دشمن تمہاری طرح سخت لڑنے والے تھے تکفیر پر اصرار کرنے والا باز نہ آنے والا۔سہو کا تب معلوم ہوتا ہے۔غالبا یہ لفظ عَوَجَاءُ ہے۔عَوَجَاءُ ج عُوج جیسا کہ السبع المعلقات کے دوسرے قصیدہ میں عوجاء مرقال استعمال ہوا ہے۔