القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 262

۲۶۲ وَكَانَ الْأَنَاسُ لِمَيْلِهِمْ نَحْوَ كَلِمَتِى بِأَقْطَارِهِ الْقُصْوَى كَطَيْرٍ مُرَتِّقِ اور لوگ باعث اسکے کہ انکو میرے کلام کیطرف میل تھا اس ایوان کے کناروں میں ایسے تھے کہ جیسے ایک پرندہ ایک طرف پرواز کر کے جانا چاہے اور نہ جائے۔قُوْفًا بِهِمْ صَحْبِى لِخِدْمَةِ دِينِهِمْ يَرَوْنَ عَجَائِبَ رَبِّهِمْ مِنْ تَعَمُّقِ اور ان کے پاس میرے دوست کھڑے تھے جو خدا تعالیٰ کے عجائب کام دیکھ رہے تھے۔وَكَمْ مِنْ عُيُونِ الْخَلْقِ فَاضَتْ دُمُوعُهَا إِذَا مَا رَأَوْا أَيْتِ رَبِّ مُوَفِّقِ اور بہتوں کے آنسو جاری ہو گئے جبکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے نشان دیکھے۔وَكَانُوا إِذَا سَمِعُوا كَلَامًا كَلُولُةٍ وَكَلِما تُفَرِّحُهُمْ كَمِسْكِ مُدَقَّقِ اور لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جس وقت وہ اس کلام گو ہر مثال کو سنتے تھے اور ان کلمات کو سنتے تھے جو مشک باریک کر دہ کی طرح تھے۔يَقُولُونُ كَرِّرُهَا وَاَرْوِ قُلُوبَنَا وَهُزِّ عَلَيْنَا مِنْ عُذَيْقِكَ وَانْتِقِ کہتے تھے دوبارہ پڑھ اور ہمارے دلوں کو سیراب کر اور اپنی کھجوروں کو ہمارے پر ہلا اور جھاڑ۔هُنَالِكَ لَاحَتْ آيَةُ الْحَقِّ كَالضُّحَى فَهَلْ عِنْدَ أَمْرٍ وَاضِحِ مِنْ مُبَرِّقِ اس جگہ دن کی طرح نشان خدا کا ظاہر ہو گیا۔پس کوئی ہے کہ ایک واضح امر کو آنکھ کھول کر دیکھے۔وَإِنِّي سُقِيتُ الْمَاءَ مَاءَ الْمَعَارِفِ وَأعْطِيتُ حِكَمًا عَافَهَا قَلْبُ أَحْمَقِ اور میں معارف کا پانی پلایا گیا ہوں اور وہ حکمتیں بھی مجھے عطا کی گئی ہیں جو صرف احمق ان سے کراہت کرتا ہے۔يَمَانِيَةٌ بَيْضَاءُ دُرَرٌ كَأَنَّهَا جَوَاهِرُ سَيْفِ قَدْ فَدَاهَا لِمُوْبَقِ وہ یمنی حکمتیں موتیوں کی مانند ہیں گویا وہ تلوار کے جو ہر ہیں جو کشتیہ حسن کا خون بہا ہیں۔فَكَانَ بِكَلِمَاتِى يَجُرُّ قُلُوبَهُمْ إِلَيْهِ وَلَمْ يَسْحَرُ وَلَمْ يَتَمَلَّقِ پس وہ میرے کلموں کے ساتھ انکے دلوں کو کھینچتا تھا اور نہ کوئی سر تھا اور نہ کوئی دلجوئی تھی۔وَأَضْحَى يَسُحُ الْمَاءَ مَاءَ فَصَاحَةٍ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ مُسْتَعِدٌ مُجَعْفَقٍ اور اس نے شروع کیا کہ ہر ایک مستعد دل پر جو طیار ہو فصاحت کا پانی گراتا تھا۔