القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 251

۲۵۱ يَا سَيِّدِي يَامَوْئِلَ الضُّعَفَاءِ جِئْنَاكَ مَظْلُومِيْنَ مِنْ جُهَلَاءِ اے میرے سردار! اے ضعیفوں کی جائے پناہ! ہم تیرے پاس جاہلوں (کے ظلم ) سے مظلوم ہو کر آئے ہیں۔إِنَّ الْمَحَبَّةَ لَا تُضَاعُ وَتُشْتَرى إِنَّا نُحِبُّكَ يَا ذُكَاءَ سَخَاءِ محبت ضائع نہیں ہوتی بلکہ اس کی قیمت پڑتی ہے۔اے آفتاب سخاوت ! یقینا ہم تجھ سے محبت رکھتے ہیں۔يَا شَمْسَنَا انْظُرُ رَحْمَةً وَتَحَنُّنَا يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلْقُ لِلْارُكَاءِ اے ہمارے آفتاب ! رحمت اور مہربانی کی نگاہ ڈالئے۔مخلوق آپ کی پناہ کے لئے دوڑی آ رہی ہے۔انْتَ الَّذِي هُوَ عَيْنُ كُلِّ سَعَادَةٍ تَهْوِى إِلَيْكَ قُلُوْبُ اَهْلِ صَفَاءِ تو ہی ہے جو ہر سعادت کا چشمہ ہے۔اہل صفاء کے دل تیری طرف مائل ہو رہے ہیں۔اَنْتَ الَّذِى هُوَ مَبْدَءُ الْأَنْوَارِ نَوَّرُتَ وَجْهَ الْمُدْنِ وَالْبَيْدَاءِ تو ہی ہے جو مبدء انوار ہے تو نے شہروں اور بیابان کے چہرے کو منور کر دیا ہے۔إِنِّي أَرى فِي وَجُهِكَ الْمُتَهَلِّلِ شَانًا يَّفُوْقَ شُنُونَ وَجُهِ ذُكَاءِ میں تیرے روشن چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایسی شان جو آفتاب کے چہرے کی شانوں سے بھی بڑھ کر ہے۔شَمْسُ الْهُدى طَلَعَتْ لَنَا مِنْ مَّكَةٍ عَيْنُ النَّدَى نَبَعَتْ لَنَا بِحِرَاءِ ہمارے لئے مکہ سے ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا اور ہمارے لئے بخشش کا چشمہ غار حراء سے پھوٹا۔ضَاهَتْ آيَاةُ الشَّمُسِ بَعْضَ ضِيَاءِ هِ فَإِذَا رَأَيْتُ فَهَاجَ مِنْهُ بُكَائِى آفتاب کی روشنی آپ کی روشنی سے کچھ ہی مشابہت رکھتی ہے۔جب میں نے ( آپ کو دیکھا تو اس سے میری گریہ وزاری میں جوش آ گیا۔نَسْعَى كَفِتيَانِ بِدِيْنِ مُحَمَّدٍ لَسْنَا كَرَجُلٍ فَاقِدِ الْأَعْضَاءِ ہم جوانوں کی طرح دین محمد کے لئے کوشاں ہیں۔ہم ایسے آدمی کی طرح نہیں جو بے دست و پا ہو۔أَعْلَى الْمُهَيْمِنُ هِمَمَنَا فِي دِينِهِ نَبْنِي مَنَازِلَنَا عَلَى الْجَوْزَاءِ خدائے نگہبان نے ہماری ہمتوں کو دین کے بارے میں بلند کر دیا ہے۔ہم اپنی منزلیں بُرج جوزاء پر بنارہے ہیں۔