القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 252

۲۵۲ إِنَّا جُعِلْنَا كَالسُّيُوفِ فَنَدْمَعُ رَأْسَ اللّنَامِ وَهَامَةَ الْأَعْدَاءِ ہم کو تلواروں کی طرح بنادیا گیا ہے پس ہم کمینوں کے سر اور دشمنوں کی کھوپڑی پھوڑ دیتے ہیں۔وَمِنَ اللّنَامِ أَرَى رُجَيْلًا فَاسِقًا غُوْلًا لَعِيْنَا نُّطْفَةَ السُّفَهَاءِ اور کمینوں میں سے میں ایک مردک فاسق کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ملعون چھلاوا اور بے وقوفوں کا تختم ہے۔شَكْسٌ خَبِيتٌ مُفْسِدٌ وَّ مُزَوِّرٌ نَحْسٌ يُسَمَّى السَّعَدَ فِي الْجُهَلَاءِ وہ بد خلق ، بڑا مفسد اور دروغگو ہے، منحوس ہے جو جاہلوں میں سعد کہلاتا ہے۔مَا فَارَقَ الْكُفْرَ الَّذِى هُوَ ارْتُهُ ضَاهَى أَبَاهُ وَأُمَّهُ بِعَمَاءِ اس نے اس کفر کو نہیں چھوڑا جو اس کی میراث ہے اور اندھے پن میں اپنے ماں باپ کے مشابہ ہو گیا ہے۔قَدْ كَانَ مِنْ دُودِ الْهُنُودِ وَزَرْعِهِمْ مِنْ عَبْدَةِ الْأَصْنَامِ كَالْآبَاءِ وہ کرم ہنود تھا اور انہی کی کھیتی میں سے تھا۔آباء واجداد کی طرح بتوں کے پجاریوں میں سے تھا۔فَالْآنَ قَدْ غَلَبَتْ عَلَيْهِ شَقَاوَةٌ كَانَتْ مُبِيْدَةَ أُمِّهِ الْعَمْيَاءِ اب اس پر شقاوت غالب آگئی ہے اور یہی شقاوت اس کی اندھی ماں کی ہلاکت کا موجب ہوئی تھی۔اِنّى اَرَاهُ مُكَذِّبًا وَّمُكَفِّرًا وَمُحَقِّرًا بِالسَّبِّ وَالْإِزْرَاءِ میں اسے مکذب اور مکفر اور گالی گلوچ کے ساتھ حقارت کرنے والا اور عیب لگانے والا پاتا ہوں۔يُؤْذِي فَمَا نَشْكُرُ وَمَا نَتَأَسَّفُ كَلْبٌ فَيَغْلِى قَلْبُهُ لِعُوَاءِ وہ ایذا دیتا ہے سو نہ ہم شکوہ کرتے ہیں اور نہ افسوس۔وہ ایک کتا ہے اس کا دل بھونکنے کے لئے جوش ماررہا ہے۔كَحَلَ الْعِنَادُ جُفُوْنَهُ بِعَجَاجَةٍ فَالْآنَ مَنْ يَحْمِيْهِ مِنْ أَقْدَاءِ عناد نے اس کی پلکوں میں غبار کا سرمہ ڈال دیا ہے اب اس کو آنکھ میں تنکا پڑ جانے سے کون بچا سکتا ہے۔يَالَا عِنِي إِنَّ الْمُهَيْمِنَ يَنْظُرُ خَفْ فَهُوَ رَبِّ قادِرٍ مَّوْلَائِى مجھے لعنت کرنے والے! بے شک نگران خدا دیکھ رہا ہے تو میرے مولیٰ رب قادر کے قہر سے ڈر۔