القصائد الاحمدیہ — Page 244
۲۴۴ إِنْ شِئْتَ لَيْسَتْ اَرْضُنَا بِبَعِيدَةٍ مِنْ أَرْضِكَ الْمَنْحُوْسَةِ الصَّيْدَاءِ اگر تو بھی کچھ لینا چاہتا ہے تو ہماری زمین کچھ دور نہیں ہے تیری اس زمین سے جو منحوس سپاٹ اور سنگلاخ ہے۔صَعْبٌ عَلَيْكَ زَمَانُ سُبُلِ مُحَاسِبٍ إِنْ مِنَّ يَا خَصْمِي عَلَى الشَّحْنَاءِ حساب لینے والے (خدا) کے سوالوں کی گھڑی تجھ پر سخت ہوگی۔اے میرے دشمن ! اگر تو کینے میں مرگیا۔مَا جِئْتُ مِنْ غَيْرِ الضُّرُورَةِ عَابِيًّا قَدْ جِئْتُ مِثْلَ الْمُزْنِ فِي الرَّمْضَاءِ میں بے ضرورت اور بے مقصد نہیں آیا بلکہ میں تپتی ہوئی زمین پر بارش برسانے والے بادل کی طرح آیا ہوں۔عَيْنٌ جَرَتْ لِعِطَاشِ قَوْمٍ أَضْحِرُوا اَوْمَاءُ نَقْعٍ طَافِحٍ لِظِمَـاء پیاس کے مارے بے گل لوگوں کے لئے ایک چشمہ جاری ہو گیا اور پیاسوں کے لئے بہت ساصاف پانی جاری ہو گیا ہے۔إِنِّي بِأَفْضَالِ الْمُهَيْمِنِ صَادِقٌ قَدْ جِئْتُ عِندَ ضُرُورَةٍ وَّ وَبَاءِ بے شک میں خدائے نگہبان کے فضلوں سے صادق ہوں اور میں ضرورت اور وبا کے وقت آیا ہوں۔ثُمَّ اللّنَامُ يُكَذِّبُونَ بِخُبُثِهِمْ لَا يَقْبَلُوْنَ جَوَائِزِى وَعَطَائِي پھر بھی کمینے لوگ اپنے مُحبت کی وجہ سے مجھے جھٹلاتے ہیں اور میری بخشش و عطا کو قبول نہیں کرتے۔كَلِمُ اللّنَامِ اسِنَّةٌ مَذْرُوبَةٌ وَصُدُورُهُمْ كَالْحَرَّةِ الرَّجُلَاءِ کمینوں کی باتیں تیز نیزے ہیں اور ان کے سینے سخت سنگلاخ زمین کی طرح ہیں۔مَنْ حَارَبَ الصَّدِّيقَ حَارَبَ رَبَّهُ وَنَبِيَّهُ وَ طَوَائِفَ الصَّلَحَاءِ جو شخص صدیق سے لڑائی کرتا ہے وہ اپنے رب اور اس کے نبی اور صلحاء کے گروہوں سے جنگ کرتا ہے۔وَاللَّهِ لَا أَدْرِى وُجُذْوَهِ كُشَاحَةٍ مِنْ غَيْرِ أَنَّ الْبُخْلَ فَارَ كَمَاءِ اللہ کی قسم ! میں ان کی دشمنی کی وجوہ نہیں جانتا بجز اس کے کہ بخل نے ان میں پانی کی طرح جوش مارا ہے۔مَا كُنتُ أَحْسَبُ أَنَّهُمْ بِعَدَاوَتِى يَذَرُونَ حُكْمَ شَرِيعَةٍ غَرَّاءِ مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ وہ میری عداوت میں روشن شریعت کے حکم کو بھی چھوڑ دیں گے۔